Home sticky post 2 ضرورت پڑنے پر ایران کے خلاف کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے، امریکی وزیرِ دفاع

ضرورت پڑنے پر ایران کے خلاف کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے، امریکی وزیرِ دفاع

Share
Share

سنگاپور: امریکی دفاعی پالیسی پر اہم بیان

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکا کے پاس اتنے عسکری وسائل اور اسلحہ موجود ہے کہ اگر ضرورت پیش آئے تو ایران کے خلاف فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

شنگریلا دفاعی اجلاس میں خطاب

سنگاپور میں منعقدہ شنگریلا دفاعی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع نے کہا کہ امریکا کے اسلحہ ذخائر اور دفاعی صلاحیتیں کسی بھی ممکنہ فوجی ضرورت کے لیے کافی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی فوج عالمی سطح پر اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار رہتی ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی صورتحال

پیٹ ہیگسیتھ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ امن معاہدے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، تاہم اب تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔

دوسری جانب امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ قریب ہے، جبکہ ایرانی حکام نے ابھی تک کسی حتمی اتفاقِ رائے کی تصدیق نہیں کی۔

چین کی عسکری سرگرمیوں پر تشویش

اپنے خطاب میں امریکی وزیرِ دفاع نے چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت اور دفاعی توسیع پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایشیائی خطے میں چین کی عسکری سرگرمیوں کے حوالے سے مختلف ممالک میں جائز خدشات پائے جاتے ہیں، تاہم امریکا غیر ضروری تصادم یا محاذ آرائی کا خواہاں نہیں ہے۔

ایشیا میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کا عزم

پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق امریکا خطے میں ایسا توازن برقرار رکھنا چاہتا ہے جہاں کوئی بھی ملک اپنی بالادستی دوسروں پر مسلط نہ کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کا مقصد ایک مستحکم اور متوازن علاقائی نظام کو فروغ دینا ہے تاکہ خطے میں امن اور سلامتی برقرار رہے۔

چین کے ساتھ تعلقات پر امریکی مؤقف

امریکی وزیرِ دفاع نے کہا کہ امریکا بیجنگ کے ساتھ احترام، باہمی مفاد اور نیک نیتی پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کے باوجود رابطے اور سفارتی تعلقات برقرار رکھنا اہم ہے۔

تائیوان سے متعلق پالیسی میں تبدیلی نہیں

پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ تائیوان کے حوالے سے امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

البتہ انہوں نے وضاحت کی کہ مستقبل میں تائیوان کو اسلحے کی فروخت یا دفاعی تعاون سے متعلق فیصلے امریکی صدر کے اختیارات کے تحت کیے جائیں گے۔

اہم نکات

  • امریکی وزیرِ دفاع نے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کی صلاحیت کا ذکر کیا۔
  • امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات تاحال حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔
  • چین کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
  • ایشیا میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
  • تائیوان کے حوالے سے امریکی پالیسی کو برقرار رکھنے کی بات کی گئی۔

نتیجہ

سنگاپور میں دیے گئے امریکی وزیرِ دفاع کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا ایک جانب ایران کے ساتھ سفارتی پیش رفت کا خواہاں ہے، جبکہ دوسری جانب اپنی دفاعی تیاریوں کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ چین، تائیوان اور مشرقِ وسطیٰ سے متعلق امریکی مؤقف عالمی سیاست اور علاقائی سلامتی کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے، جس کے اثرات مستقبل کی بین الاقوامی صورتحال پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

Share
Related Articles

امریکی سینیٹر لنزے گراہم 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

ریپبلکن رہنما اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی طویل سیاسی خدمات...

یورپ میں شدید گرمی کی لہر، جنگلات میں ہولناک آتشزدگی، ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل

فرانس، اسپین، پرتگال اور یونان میں 42 ہزار ایکڑ سے زائد رقبہ...

لنڈا نوسکووا ومبلڈن اوپن خواتین سنگلز کی نئی چیمپئن بن گئیں

ہم وطن کیرولینا موچووا کو شکست دے کر کیریئر کا پہلا گرینڈ...

او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین، تکنیکی سیشنز جاری، مرکزی اجلاس کل ہوگا

57 رکن ممالک کے 190 مندوبین کی شرکت، خواتین کے حقوق، بااختیار...