پشاور: آزاد اور شفاف انتخابات کے انعقاد کی درخواست
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے گلگت بلتستان میں انتخابی ماحول سے متعلق خدشات کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کے چیف جسٹس کو ایک اہم خط ارسال کیا ہے۔ خط میں آزاد، منصفانہ اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے عدالتی مداخلت کی درخواست کی گئی ہے۔
انتخابی سرگرمیوں پر پابندیوں کی اطلاعات
وزیراعلیٰ کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایک سیاسی جماعت کی انتخابی سرگرمیوں، جلسوں اور قیادت کی نقل و حرکت پر غیر ضروری پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔
خط میں اس صورتحال کو انتخابی عمل کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سیاسی سرگرمیوں پر قدغن جمہوری عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔
کارکنوں اور رہنماؤں کی ہراسانی پر اظہار تشویش
خط کے مطابق سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کی مبینہ ہراسانی، گرفتاریوں اور قانونی سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
وزیراعلیٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسی کارروائیاں انتخابی عمل کی شفافیت، غیر جانبداری اور عوامی اعتماد کو متاثر کر سکتی ہیں، جس سے انتخابات کی ساکھ پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
آئینی حقوق کے تحفظ پر زور
خط میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان کا آئین ہر شہری اور سیاسی جماعت کو آزادانہ سیاسی سرگرمیوں اور منصفانہ انتخابات میں شرکت کا بنیادی حق فراہم کرتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ تمام سیاسی قوتوں کو مساوی مواقع فراہم کرنا جمہوری نظام کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔
عدالت سے کیا درخواست کی گئی؟
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ:
- آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے۔
- متعلقہ اداروں کو انتخابی عمل میں غیر جانبداری برقرار رکھنے کی ہدایات جاری کی جائیں۔
- سیاسی کارکنوں اور قیادت کے خلاف مبینہ غیر قانونی ہراسانی اور گرفتاریوں کو روکا جائے۔
- تمام سیاسی جماعتوں کو بلا رکاوٹ انتخابی مہم چلانے کی اجازت دی جائے۔
- انتخابی عمل کے دوران آئینی اور جمہوری حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔
اہم نکات
- وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے گلگت بلتستان کے انتخابی ماحول پر تشویش کا اظہار کیا۔
- چیف جسٹس سپریم کورٹ اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کو خط ارسال کیا گیا۔
- سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں اور گرفتاریوں کی اطلاعات کا ذکر کیا گیا۔
- آزاد اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے عدالتی اقدامات کی درخواست کی گئی۔
- آئینی اور جمہوری حقوق کے تحفظ پر زور دیا گیا۔
نتیجہ
گلگت بلتستان کے انتخابات کے حوالے سے اٹھائے گئے خدشات سیاسی اور جمہوری حلقوں میں اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے چیف جسٹس کو لکھا گیا خط انتخابی شفافیت، سیاسی آزادی اور آئینی حقوق کے تحفظ کے مطالبے کی عکاسی کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر عدالتی اور انتظامی ردعمل انتخابی عمل کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔