اسلام آباد: چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے حالیہ سیلاب کے باعث سوات میں ہونے والی اموات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے لواحقین سے دلی ہمدردی اور اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ این ڈی ایم اے اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ ہے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید موسمی آفات کی زد میں ہے، اور حالیہ برس مون سون کے دوران معمول سے زیادہ بارشیں متوقع ہیں۔ شمالی علاقوں میں گرمی کی شدت سے گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور بارشوں کے باعث ندی نالوں اور دریاؤں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ مون سون کے دوران آبی گزرگاہوں، ندی نالوں اور دریاؤں کے قریب سیر و تفریح سے گریز کریں اور انتہائی احتیاط برتیں۔ انہوں نے کہا کہ ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ ادارہ صوبائی و ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تیاریاں کر رہا ہے، اور تمام متعلقہ اداروں کو ہنگامی صورتحال کے حوالے سے بروقت پیشگی اطلاعات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ این ڈی ایم اے کا نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کسی بھی ممکنہ خطرے کے حوالے سے 6 سے 8 ماہ قبل الرٹ جاری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ جاری کردہ الرٹس کی روشنی میں ہنگامی اقدامات یقینی بنائیں، اور ضلعی انتظامیہ سیاحتی مقامات پر عوام کی آمد و رفت گنجائش کے مطابق رکھے تاکہ ہجوم سے بچا جا سکے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ عوام “پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ” کے ذریعے ممکنہ خطرات کے بارے میں بروقت معلومات حاصل کریں اور اداروں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر مکمل عملدرآمد کریں۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ تیاری، بروقت آگاہی، اور تعاون ہی قدرتی آفات سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔