نیویارک:اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے آج متفقہ طور پر “تنازعات کے پرامن حل کے لیے میکانزم کو مضبوط بنانے” کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد متفقہ طور پرمنظور کر لی۔
یہ اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کی۔ قرارداد کی منظوری کو عالمی امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کے فعال کردار کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 (2025) اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب ششم کے تحت تنازعات کے پرامن حل کے طریقوں کو مؤثر اور مضبوط بنانے پر زور دیتی ہے، اور تمام رکن ممالک پر زور دیتی ہے کہ وہ اختلافات کو حل کرنے کے لیے پرامن ذرائع اختیار کریں۔
قرارداد میں رکن ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر موثر عمل درآمد کے لیے ضروری اقدامات کریں تاکہ تنازعات کے حل میں پیش رفت ممکن ہو سکے۔
علاوہ ازیں قرارداد میں اقوام متحدہ اور رکن ممالک کو اس بات کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ وہ تنازعات کو شدت اختیار کرنے سے روکنے کے لیے بروقت سفارتی کوششیں، ثالثی، اعتماد سازی کے اقدامات اور عالمی، علاقائی و ذیلی علاقائی سطح پر مکالمے کے فروغ جیسے ذرائع اختیار کریں۔
قرارداد میں تمام علاقائی اور ذیلی علاقائی تنظیموں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پرامن تصفیے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں اور اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنائیں۔
پاکستان نے بطور ایک فعال رکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عالمی امن و سلامتی کے قیام کے لیے اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کیا ہے۔ پاکستان کی پیش کردہ یہ قرارداد علاقائی اور عالمی سطح پر امن کے قیام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے ایک اہم آلہ کار ثابت ہو گی۔
یہ کامیابی پاکستان کے سفارتی کردار، اصولی مؤقف اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر عالمی امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کی عکاس ہے۔