Home sticky post پاکستان کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران عالمی تعاون اور جامع مکالمے پر زور

پاکستان کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران عالمی تعاون اور جامع مکالمے پر زور

Share
Share

نیویارک: نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ دنیا کو درپیش بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تنازعات اور بین الاقوامی قوانین کو لاحق خطرات کے پیش نظر، اب وقت آ گیا ہے کہ کثیرالجہتی، پرامن تنازعات کے حل اور سفارتی تعاون کے لیے عالمی عزم کو ازسرنو مضبوط کیا جائے۔

یہ بات انہوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی جانب سے منعقدہ اعلیٰ سطحی استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یہ تقریب پاکستان کی جانب سے جولائی کے مہینے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالنے کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔

سینیٹر محمد اسحاق ڈارنے سفارت کاروں، اقوام متحدہ کے حکام اور رکن ممالک کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ کثیرالجہتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کی بالادستی کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج مقاصد و اصول، بالخصوص تنازعات کے پرامن حل اور طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز، ایک منصفانہ عالمی نظام کے لیے ناگزیر ہیں۔”

پاکستان کی قیادت میں سلامتی کونسل نے قرارداد 2788 منظور کی، جو پرامن تنازعات کے حل کے موضوع پر ہونے والی اعلیٰ سطحی کھلی بحث کے بعد سامنے آئی۔ یہ اسحاق ڈار کی جانب سے پیش کیے گئے تین اہم ترجیحی نکات میں سے پہلا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصول طویل عرصے سے نظر انداز ہوتا آیا ہے اور اسے دوبارہ کونسل کے ایجنڈے کا مرکزی نکتہ بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کثیرالجہتی نظام کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ یہ صرف ردعمل کا فورم نہیں بلکہ پیشگی روک تھام، اصولی قیادت اور عالمی مسائل کے حل کا پلیٹ فارم ہونا چاہیے۔ سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران پاکستان کی دوسری ترجیح اقوام متحدہ اور علاقائی اداروں، خصوصاً اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس حوالے سے سلامتی کونسل میں 24 جولائی کو او آئی سی کے ساتھ ایک بریفنگ منعقد ہوگی، تاکہ تنظیم کی امن قائم رکھنے کی کوششوں کو اجاگر کیا جا سکے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے نظام، جنرل اسمبلی اور اکنامک اینڈ سوشل کونسل (ECOSOC) کے ذریعے امن، ترقی اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے پاکستان کی وسیع سفارتی وابستگی کا اعادہ بھی کیا۔ اس موقع پر انہوں نے 2026–2028 کی مدت کے لیے انسانی حقوق کونسل کی رکنیت کے لیے پاکستان کی امیدواری کا بھی اعلان کیا، جس کی حمایت ایشیا پیسیفک گروپ کر رہا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ “انسانی حقوق کونسل کے ساتھ ہماری وابستگی سچائی، رواداری، باہمی احترام اور اتفاقِ رائے کی اقدار سے جڑی ہوئی ہے، اور ہمیں عالمی حمایت پر مکمل اعتماد ہے۔”

اپنے اختتامی کلمات میں، انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جغرافیائی تقسیم سے بالاتر ہو کر مکالمے کو ترجیح دے۔انہوں نے زوردیا کہ ایک ایسی دنیا میں جہاں تقسیم اور چیلنجز بڑھتے جا رہے ہیں، ہمیں تصادم کے بجائے تعاون اور طاقت کے بجائے سفارت کاری کو اپنانا ہوگا۔ پاکستان ان مشترکہ مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے آپ سب کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

Share
Related Articles

ملک میں سونے کی قیمتوں میں آج بڑا اضافہ

کراچی :پاکستان بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں آج...

امریکا کا اسرائیل کو 151 ملین ڈالرز کے بم فروخت کرنے کی منظوری کا فیصلہ

واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسرائیل کو 151 ملین ڈالرز...

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے ملاقات، ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں پر گفتگو

راولپنڈی :فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد...

پڑوسی ممالک کے خلاف کوئی حملہ یا میزائل حملے نہیں کیے جائیں گے،ایرانی صدر

تہران : ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ پڑوسی...