Home sticky post 5 ڈاکٹر مصدق ملک کا عالمی پلاسٹک آلودگی سے نمٹنے کیلئے جامع اصلاحات کا مطالبہ

ڈاکٹر مصدق ملک کا عالمی پلاسٹک آلودگی سے نمٹنے کیلئے جامع اصلاحات کا مطالبہ

Share
Share

جنیوا:وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے جنیوا میں منعقدہ بین الوزارتی غیر رسمی مکالمہ برائے “سرکلر اکانومی میں سرمایہ کاری کے مواقع عالمی پلاسٹک معاہدے کے تناظر میں” سے خطاب کرتے ہوئے پلاسٹک آلودگی کے بڑھتے ہوئے عالمی بحران کے تدارک اور پاکستان کے ماحولیاتی، معاشی اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے جامع اور منصفانہ اصلاحات پر زور دیا۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے اپنے خطاب میں عالمی سطح پر پلاسٹک کے استعمال میں شدید عدم توازن کو اجاگر کیا۔ ترقی یافتہ ممالک نہ صرف پلاسٹک کی کھپت میں کئی گنا آگے ہیں بلکہ کم قیمت، آلودہ اور ناقابلِ ری سائیکل پلاسٹک کچرے کو ’’ری سائیکل ایبل‘‘ کے لبادے میں ترقی پذیر ممالک، بشمول پاکستان، برآمد کر دیتے ہیں۔ جدید ری سائیکلنگ سہولیات کی کمی کے باعث یہ فضلہ اکثر کھلے لینڈفلز میں پھینکا جاتا ہے، جلایا جاتا ہے یا دریاؤں اور سمندروں میں شامل ہو کر فضا، مٹی اور پانی کو آلودہ کرتا ہے، جس کے اثرات براہِ راست انسانی صحت پر پڑتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق مغربی یورپ میں فی کس سالانہ پلاسٹک کھپت 150 کلوگرام تک پہنچ چکی ہے، جب کہ پاکستان میں یہ صرف 7 کلوگرام فی کس ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ شرح بالترتیب 8 اور 6 کلوگرام ہے، اور نائیجیریا، ایتھوپیا اور کینیا میں یہ 5 سے 6 کلوگرام کے درمیان ہے۔ یہ ممالک عالمی پلاسٹک کھپت میں نہ ہونے کے برابر حصہ ڈالنے کے باوجود ماحولیاتی بوجھ کا سب سے زیادہ سامنا کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہاکہ “ہمارے عوام ایک ایسے مسئلے کی قیمت ادا کر رہے ہیں جو ہم نے پیدا نہیں کیا۔ پلاسٹک بحران کو گلوبل ساؤتھ کے لیے ایک اور ناانصافی بننے نہیں دیں گے۔”

وفاقی وزیر نے عالمی پلاسٹک معاہدے کے تحت دو اہم اقدامات کی تجویز پیش کی۔1. ایکسٹینڈڈ کنزیومر ریسپانسبلٹی (ECR) فریم ورک: پلاسٹک آلودگی کی ذمہ داری کو صرف فضلے کے ضائع کرنے پر نہیں بلکہ کھپت کی مقدار سے منسلک کیا جائے۔ ایسے ممالک جہاں فی کس سالانہ کھپت 100 کلوگرام سے زائد ہو، انہیں پلاسٹک فنڈ میں مالی تعاون فراہم کرنا ہوگا تاکہ ترقی پذیر ممالک میں جدید ری سائیکلنگ پلانٹس، چھانٹنے کے مراکز اور تکنیکی سہولیات قائم کی جا سکیں۔

  1. گلوبل پلاسٹک کریڈٹ مارکیٹ: کاربن کریڈٹس کی طرز پر، ایسے ترقی پذیر ممالک جو پلاسٹک کی ری سائیکلنگ، کچرے کے انتظام اور آلودگی کی روک تھام میں قابلِ پیمائش پیش رفت کریں، انہیں پلاسٹک کریڈٹس سے نوازا جائے۔ ترقی یافتہ ممالک ان کریڈٹس کو خرید کر اپنے ماحولیاتی اہداف پورے کر سکیں گے، اور حاصل شدہ رقوم جدید ری سائیکلنگ نظام، فضلہ اکٹھا کرنے کے ڈھانچے اور غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں کی فلاح و بحالی پر خرچ ہوں گی۔

ان اقدامات کے ذریعے پاکستان نہ صرف اپنے عوام کے صاف اور صحت مند ماحول کے حق کا دفاع کر رہا ہے بلکہ ایک زیادہ منصفانہ اور ذمہ دار عالمی معیشت کی تشکیل میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے، جہاں کوئی ملک پلاسٹک فضلے کا ڈمپنگ گراؤنڈ نہ بنے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک آلودگی محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ انصاف، مساوات اور خودمختاری کا معاملہ ہے۔ پاکستان اس جدوجہد میں قیادت کے لیے تیار ہے تاکہ ہماری آئندہ نسلیں دریاؤں، زمین اور فضاؤں کو زہریلے فضلے سے پاک ورثے میں پائیں۔

Share
Related Articles

وزیراعظم کی زیر صدارت علاقائی صورتحال کے تناظر میں ملکی معیشت پر جائزہ اجلاس،اہم فیصلے

اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت علاقائی صورتحال کے تناظر...

سرکاری و نجی اداروں میں 50 فیصد ملازمین کو ورک فرام ہوم، ہفتے میں چار دن کام ہوگا، وزیراعظم

اسلا م آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال...

محکمہ موسمیات کی خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں بارش کی پیشگوئی

محکمہ موسمیات نےخیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں بارش کی پیش گوئی کردی...