اسلام آباد:قومی اسمبلی میں ستائیسویں آئینی ترمیم پر عام بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ ارکان نے آئینی ترمیم پر اپنی رائے دیتے ہوئے آئینی عدلیہ کے قیام کے فیصلے کو سراہا۔ ارکان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم پر اتفاق رائے ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔ اپوزیشن کا اس عمل میں شامل نہ ہونا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا بھارت کے خلاف ہمیں تاریخی کامیابی حاصل ہوئی۔ دشمن نے ہماری جانب میلی آنکھ سے دیکھا تو قوم اس کے خلاف تمام تر اختلافات بھلا کر متحد ہو گئی۔
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا کہ بلدیاتی نظام کے بغیر اختیارات اور وسائل کی نچی سطح پر منتقلی ممکن نہیں۔ ضروری ہے کہ اس حوالے سے اقدامات کیے جائیں۔
وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے کہا کہ آئینی ترمیم پر اتفاق رائے بہت ضروری ہے۔ میثاق معیشت ہم سب کے مفاد میں ہے۔
وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ آئینی ترمیم پر تمام جماعتوں نے اپنی تجاویز دیں لیکن اپوزیشن نے اس جمہوری عمل کا حصہ بننے سے انکار کیا۔ کمیٹی اجلاس میں ان کی عدم شرکت ان کے جمہوری رویوں پر سوالیہ نشان ہے۔
پارلیمانی سیکرٹری بیرسٹر دانیال چودھری نے کہا اپوزیشن کو فردِ واحد کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ یہ نہ کوئی جمہوری جماعت ہے اور نہ ہی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے۔
دوسرے ارکان نے آئینی ترمیم پر عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہ آئینی عدلیہ کے قیام کا فیصلہ خوش آئند ہے، اس سے عدالتوں پر مقدمات کے بوجھ میں کمی آئے گی اور عوام کو انصاف کی فوری فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاک افواج نے جارح دشمن کے خلاف جس طرح ہمیں فتح دلائی ہے یہ ایک تاریخی واقعہ ہے۔ ہمیں اپنے قومی ہیروز کو یاد رکھنا چاہیے۔ آئین میں اس حوالے سے فیلڈ مارشل کے اعزاز کو قانونی حیثیت دینا احسن اقدام ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے نظام ِحکومت میں صدر کا عہدہ بے حد عزت و تکریم کا حامل ہوتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں صدر کو اس طرح کا مستثنی حاصل ہے۔
ارکان نے اسلام آباد میں خودکش حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کا سامنا ہے جس سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے سیکیورٹی ادارے ہمہ وقت برسر پیکار ہیں۔
اجلاس میں سینیٹر عرفان صدیقی مرحوم اور دہشتگردانہ حملے میں شہد ہونے والوں کے لیے دعا کی گئی۔ اجلاس کی کارروائی کل صبح گیارہ بجے تک ملتوی ہو گئی۔