اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہباز شریف نےکہا ہے کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں ۔ وفاق اور صوبوں کی مضبوطی ملک کے لیے ناگزیر ہے ۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے مل کر خوشیاں بانٹنی اور مسائل حل کرنے ہیں ۔ 18ویں ترمیم اور این ایف سی سے متعلق کوئی اقدام مشاورت کے بغیر نہیں ہو گا۔
قومی اسمبلی سے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد اپنے خطاب میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مختلف قومی ایشوز پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ منافرت اور بدتہذیبی کی سیاست کی بجائے عوام کی خوشحالی اور ترقی کے لیے آگے بڑھنا ہے ۔ آئینی ترمیم کے ذریعے میثاق جمہوریت میں کیا گیا وعدہ پورا ہوا۔ ہمارے قائد محمد نواز شریف سرخرو ہوئے ۔ یقیناً محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی روح کو سکون ملا ہو گا۔
محمد شہباز شریف نے کہا کہ صوبے وفاق کی اکائیاں ہیں قومی وحدت اور یکجہتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ تصفیہ طلب معاملات مل بیٹھ کر حل کریں گے ۔
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران ہماری بہادر افواج نے پیشہ ورانہ مہارت اور قوم کی حمایت سے دشمن کو شکست دی ۔ عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا۔ ہم جری اور عظیم قوم ہیں ۔ اپنے ہیروز کو عزت دینا اور دلانا جانتے ہیں ۔
وزیراعظم نے وانا اور اسلام آباد میں دہشت گردی کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بہادر سپوت پاک سرزمین کے تحفظ کے لیے اپنے خون سے مادر وطن کا دفاع کر رہے ہیں ۔ ہم نے پہلے بھی دہشت گردی کا خاتمہ کیا اب بھی خارجی عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو ختم کر کے دم لیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ خطے میں خوشحالی اور استحکام کے لیے افغانستان بھی امن عمل میں شریک ہو۔ دوحہ اور استنبول مذاکرات میں ہماری ایک ہی شرط تھی کہ افغان سرزمین کا دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں استعمال بند ہونا چاہیے ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری پر اتحادی جماعتوں کی قیادت کو مبارک باد دیتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے مسلم لیگ ن کے رہنما مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کی خدمات پر بھی خراج عقیدت پیش کیا ۔