اسلام آباد:قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیر قانون نے متعدد بار واضح کیا ہے کہ معاملات مذاکرات سے ہی حل ہوں گے ۔محاذ آرائی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے ۔ میں اپنی پارلیمانی اور آئینی ذمہ داری پوری کر رہا ہوں ۔
سپیکر سردار ایاز صادق نے محمود خان اچکزئی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی سے روکنے کی سازش دو ہزار چودہ میں ناکامی کے بعد پارلیمنٹ پر دوبارہ حملے کی سازش قابل قبول نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان اور جمہوریت کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنائیں گے ۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سیاست اور فسطائیت میں فرق ہوتا ہے۔سیاست کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہو گا۔گورنر راج ایک آئینی عمل ہے۔
قومی اسمبلی نے فیڈرل پراسکیوشن سروس ترمیمی بل اورقومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل بھی منظور کر لیے ۔ بل ایوان میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا ۔
توجہ دلاؤ نوٹس پر بیرسٹر عقیل نے بتایا کہ وفاقی سروس ٹریبونل کے ریگولر بنچ کے لیے چھ ممبران کی تقرری کر لی گئی ہے ۔ باقی ماندہ ممبران کی تقرری جلد مکمل کر کے ایف ایس ٹی کے بنچ کو فعال کر دیا جائے گا۔
وقفہ سوالات میں پارلیمانی سیکرٹری زیب جعفر نے بتایا کہ پی آئی اے کو منافع بخش ادارہ بنانے کے لیے اس میں اصلاحات کی گئی ہیں ۔ پی آئی اے میں ایوی ایشن کے اصولوں کے مطابق سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں ۔