Home sticky post 5 قومی اے آئی ورکشاپ :اے آئی زمینی سطح پر موسمیاتی کمزوریوں کی نشاندہی میں مدد دے سکتی ہے ،مصدق ملک

قومی اے آئی ورکشاپ :اے آئی زمینی سطح پر موسمیاتی کمزوریوں کی نشاندہی میں مدد دے سکتی ہے ،مصدق ملک

Share
Share

اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، ڈاکٹر مصدق ملک نے قومی سطح پر منعقدہ مصنوعی ذہانت (AI) ورکشاپ کے پینل مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے موسمیاتی نظم و نسق، عوامی پالیسی اور قدرتی آفات سے نمٹنے میں مصنوعی ذہانت کے مؤثر کردار پر روشنی ڈالی۔

خطاب کے دوران وفاقی وزیر نے کہا کہ اے آئی کا سب سے اہم اور مؤثر استعمال اس کی پیش گوئی اور تدارکی صلاحیت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈیٹا محدود اور بکھرا ہوا ہے، جس کی وجہ سے مؤثر پالیسی سازی میں مشکلات درپیش ہیں۔ پاکستان وَلنریبلٹی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے بتایا کہ رپورٹ کے مطابق ملک کے 20 سب سے زیادہ موسمیاتی طور پر حساس اضلاع میں سے 18 بلوچستان جبکہ 2 خیبر پختونخوا میں واقع ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ رپورٹس ہمیں واضح طور پر یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہیں کہ خطرات کہاں موجود ہیں، اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈلنگ کے ذریعے ایسے اقدامات ترتیب دیے جا سکتے ہیں جو زیادہ سے زیادہ اثرات مرتب کریں۔

انہوں نے کہا کہ اے آئی زمینی سطح پر موسمیاتی کمزوریوں کی نشاندہی میں مدد دے سکتی ہے اور مختلف ٹیکنالوجیز اور نگرانی کے نظام کو باہم مربوط کر کے ایک واچ ڈاگ کے طور پر کام کر سکتی ہے۔ اس کے ذریعے کسی ممکنہ آفت کی پیشگی نشاندہی ممکن ہو جاتی ہے تاکہ بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ اس وقت دنیا ایک ٹیکنالوجی انقلاب سے گزر رہی ہے، جہاں مصنوعی ذہانت کو مرکزی پلیٹ فارم بنا کر مختلف ٹیکنالوجیز کا باہمی انضمام ہو رہا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اے آئی پر اندھا اعتماد انسانی فہم اور فیصلہ سازی کو کمزور کر سکتا ہے، اس لیے اس کے استعمال میں احتیاط اور نگرانی نہایت ضروری ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے اگلے مرحلے میں اے آئی ایجنٹس کا ظہور ہو رہا ہے، جو بعض شعبوں میں انسانی ملازمتوں کی جگہ لے سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی شعبے میں اے آئی کو شامل کرتے وقت غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہے اور متاثرہ افراد کو بروقت اور مؤثر انداز میں متبادل کرداروں میں ڈھالنا ناگزیر ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ٹیکنالوجی کے ذریعے وقتی طور پر پیداواری صلاحیت میں اضافہ ممکن ہے، تاہم طویل المدتی ترقی اور پیداواری صلاحیت کے لیے جدت اور اختراع ناگزیر ہیں۔

پینل مباحثے میں وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال چوہدری، اور وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ سمیت مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے ماہرین، پالیسی ساز اور اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

Share
Related Articles

ملک میں سونے کی قیمتوں میں آج بڑا اضافہ

کراچی :پاکستان بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں آج...

امریکا کا اسرائیل کو 151 ملین ڈالرز کے بم فروخت کرنے کی منظوری کا فیصلہ

واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسرائیل کو 151 ملین ڈالرز...

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے ملاقات، ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں پر گفتگو

راولپنڈی :فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد...

پڑوسی ممالک کے خلاف کوئی حملہ یا میزائل حملے نہیں کیے جائیں گے،ایرانی صدر

تہران : ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ پڑوسی...