اسلام آباد:وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی ہر دہشت گردی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں ، بار بار افغان رجیم کو مصدقہ ثبوت فراہم کرنے کے باوجود فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر افغانستان میں صرف دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
سینیٹ میں افغانستان میں 21 فروری کو دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف کی جانے والی فضائی کارروائی سے متعلق پالیسی بیان دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے متعدد بار ٹی ٹی پی کے فتنہ الخوارج کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں کی واضح نشاندہی کی ۔ دوست اسلامی ممالک قطر اور ترکیہ نے بھی ثالثی کی کوشش کی، تاہم افغانستان کی جانب سے 10 ارب روپے کے عوض ٹھکانے منتقل کرنے کی تجویز دی گئی جس پر کوئی قابلِ اعتماد گارنٹی نہ ملنے کے باعث مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پاکستان کی کارروائی میں سول آبادی کو نشانہ بنانے کے پروپیگنڈے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان صرف جنازے اٹھانے کے لیے نہیں بلکہ فیصلہ کن جواب دینے کی مکمل اور بھرپور صلاحیت رکھتا ہے ہم اپنے ہر شہید کے خون کا حساب لیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم اور عسکری قیادت دہشت گردی کے خلاف ایک صفحے پر متحد ہیں انھوں نے شہداء کے اہلِ خانہ کو قوم کی جانب سے خراجِ تحسین پیش کیا ۔
وزیر اعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثنا اللہ نے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کی جانب سے ماہ رمضان میں عفو درگزر اور مفاہمت کی فضاء آگے بڑھانے سے متعلق اظہار خیال کے جواب میں واضح کیا کہ جمہوریت میں مسائل مذاکرات سے حل کئے جاتے ہیں ،حکومت نے متعدد بار اپوزیشن کو ملکی سلامتی ،معیشت اور ترقی کے لئے مذاکرات کی پیشکش کی ہے تاکہ ہر بار پی ٹی آئی نے بات چیت سے انکار کیا۔
سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جیلوں میں سزا یافتہ قیدیوں کے علاج کے لئے قوانین موجود ہیں جن پر مکمل عمل درآمد کیا جا رہا ہے،بانی پی ٹی آئی کی ایک آنکھ کے علاج کے لئے ماہر ڈاکٹروں کے پینلز نے کئی بار جیل میں ان کا تفصیلی معائنہ ،تمام ضروری ٹیسٹ اور علاج کیا ، جس کی رپورٹس سپریم کورٹ میں جمع ہو چکی ہیں ان پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔
پیپلز پارٹی کی پارلیمانی لیڈر سینیٹر شیری رحمان اور انکی جماعت کے دیگر سینیٹرز نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کسی صورت قابل قبول نہیں ، یہ باتیں آئین اور جمہوریت کے خلاف ہیں ،صوبے کی حدود میں تبدیلی کے لیے صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت لازمی ہے۔ایم کیو ایم کی خالدہ اطیب نے کہا کہ انکی جماعت نے سندھ کو تقسیم کرنے کی بات نہیں کی ، ہم نے انتظامی یونٹ بنا کر اپنے حقوق کی بات کی ہے ۔
اس سے پہلے سینیٹ نے چار قانونی بلز کی منظوری دی۔ ان بلز میں قومی سلامتی کونسل ایکٹ 2004 میں مزید ترمیم ،دارالحکومت اسلام آباد میں امتناع سزائے جسمانی ترمیمی بل 2022، مجموعہ ضابطہ فوجداری 1898 میں مزید ترمیم کا بل اور زکوٰۃ عشر ترمیمی بل 2026 شامل ہیں ۔ سینیٹ اجلاس اب کل صبح ساڑھ گیارہ بجے ہو گا۔