کابل: افغانستان میں طالبان کے زیرِ اقتدار انسانی حقوق خصوصاً خواتین کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بڑھتے ہوئے جبر کے خلاف افغان خواتین تنظیموں نے تاریخی احتجاج کیا، جس کے دوران طالبان رجیم کی خواتین مخالف پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
یومِ خواتین کے موقع پر کابل میں افغان ویمنز فریڈم لینٹرن موومنٹ اور افغان ویمنز کرائی موومنٹ کی جانب سے طالبان رجیم کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کے خلاف بھرپور احتجاج کیا گیا۔ مظاہرے میں شریک خواتین نے “روٹی، کام، آزادی” اور “ہمارا دشمن طالبان” جیسے فلک شگاف نعرے بلند کیے۔
افغان ویمنز فریڈم لینٹرن موومنٹ کی رکن خواتین کے مطابق افغان طالبان رجیم کی انتہا پسند پالیسیوں کے باعث خواتین کے حقوق کا بحران مزید گہرا اور منظم شکل اختیار کر چکا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم کی جابرانہ پابندیوں نے خواتین کی تعلیم، روزگار اور احتجاج کے بنیادی حقوق چھین لیے ہیں، جس کے باعث لاکھوں خواتین کی زندگیاں شدید خطرات سے دوچار ہو گئی ہیں۔
افغان ویمنز کرائی موومنٹ کے بیان کے مطابق طالبان کے دورِ حکومت میں خواتین کو منظم انداز میں سیاسی، سماجی اور اقتصادی زندگی سے خارج کر دیا گیا ہے اور وہ بدترین صنفی امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی افغان طالبان رجیم کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کو دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کے بجائے خواتین کی سماجی، معاشرتی اور اقتصادی زندگی کی بہتری پر توجہ دینی چاہیے۔