کابل: افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں پھیلتے دہشتگرد گروہ اور مجرمانہ نیٹ ورکس خطے کے ممالک کیلئے سنگین خطرہ بن گئے ہیں جبکہ نااہل افغان طالبان کی ناکام حکمرانی نے معاشی اور سیاسی ڈھانچے کو تباہ کر کے افغان عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
سمال وارز جرنل کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کی موجودہ سنگین صورتحال علاقائی اور عالمی سطح پر شدید خطرات پیدا کر رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں مفلوج سیاست، نظریاتی سختی اور عالمی تنہائی ایسے خطرات کو جنم دے رہی ہے جو سرحدوں سے باہر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کی رجیم میں ساختی کمزوریاں، ناکام ادارے، گہرا معاشی سکڑاؤ اور وسیع پیمانے پر سماجی اخراج نے عدم استحکام کو مزید شدت دی ہے۔ معاشی تباہی کے باعث افغانستان کی نصف سے زیادہ آبادی شدید غربت و افلاس کا شکار ہو چکی ہے۔
امریکی جریدے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی تنہائی کے شکار افغانستان میں انتہا پسندانہ بیانیے اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس تیزی سے پنپ رہے ہیں، جبکہ خواتین کی پسماندگی، تعلیم سے محرومی اور ملازمت پر پابندیوں نے افغان اداروں کے زوال کو مزید تیز کر دیا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ افغانستان موجودہ اور آنے والے وقت میں عالمی سلامتی کیلئے ایک بڑا چیلنج بن رہا ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق دہشت گردی اور منشیات فروشی جیسے مکروہ دھندوں پر چلنے والی افغان طالبان رجیم کو دنیا بھر سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔