کابل: اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی انتہا پسندانہ پالیسیاں، دہشتگردوں کی حمایت اور خواتین کے حقوق کی پامالی خطے اور عالمی استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن رہی ہیں۔ عالمی ادارے کے مطابق دہشت گردوں کی پشت پناہی، شہری آزادیوں پر پابندیاں اور خواتین کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں افغان طالبان رجیم کی نمایاں پہچان بنتی جا رہی ہیں۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) کی نائب نمائندہ جورجٹ گگنون نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال بدستور عالمی برادری کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم کو افغانستان میں پنپتی دہشتگردی کے خلاف سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق خطے کے ممالک کو افغانستان سے سرگرم فتنہ الخوارج سمیت دیگر دہشتگرد تنظیموں کے حوالے سے بھی شدید خدشات لاحق ہیں۔
جورجٹ گگنون نے مزید کہا کہ افغانستان سے ممکنہ دہشت گردی کا خطرہ عالمی برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے جبکہ افغان طالبان رجیم کی سفارتی تنہائی خطے میں عدم استحکام، دہشت گردی اور منشیات کے بڑھتے ہوئے خطرات کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ افغان طالبان رجیم کے نظریاتی اور صنفی امتیاز پر مبنی قوانین نے افغان عوام، خصوصاً خواتین کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ ان کے مطابق طالبان کے نام نہاد فوجداری قوانین نے افغان عوام سے یکساں مواقع کی فراہمی سمیت بنیادی انسانی حقوق بھی چھین لیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی انتہا پسند سوچ اور ناکام پالیسیوں نے افغانستان کو عملی طور پر ایک ناکام ریاست میں تبدیل کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق افغانستان کی معیشت کا بڑا انحصار وار اکانومی اور نارکو ٹیررازم پر ہو چکا ہے، جو خطے کے امن اور استحکام کے لیے مزید خطرات پیدا کر رہا ہے۔