پلندری :پاک فوج کے ترجمان اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے 15 ستمبر کو پلندری آزاد کشمیر میں مختلف جامعات کے ایک ہزار سے زائد طلبہ اور اساتذہ سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے طلبہ کے مختلف سوالات کے جواب دیے، جن کے چند کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے ہیں۔
خطاب کے دوران ایک سوال عوامی ایکشن کمیٹی اور حالیہ احتجاجی مظاہروں سے متعلق کیا گیا، جس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ایک فعال سیاسی نظام موجود ہے جو کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اگر ٹیکس وصول نہ کرے تو مراعات اور تنخواہیں کیسے دی جائیں گی جبکہ 30 فیصد سے زائد افراد آزاد کشمیر میں سرکاری ملازمتوں سے وابستہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے تمام شعبوں، بالخصوص تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے اشاریے (INDICATORS) بہت بہتر ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ احتجاج عوام کا جمہوری حق ہے، تاہم احتجاج کو انتشار میں بدل دینا معیشت اور ریاست دونوں کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کشمیر کو بے پناہ نعمتوں سے نوازا ہے، اور پاکستان کا خواب دیکھنے والے قائداعظم محمد علی جناح کا بھی کشمیر سے جذباتی تعلق تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج میں درجنوں کشمیری افسران اور جوان خدمات انجام دے رہے ہیں، اور کشمیر کا مستقبل صرف اور صرف “کشمیر بنے گا پاکستان” ہے۔