ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں شمولیت “انتہائی خطرناک” ثابت ہو سکتی ہے اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
او آئی سی (تنظیم تعاون اسلامی) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ امریکہ اس جارحیت میں ابتدا ء سے شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران سفارت کاری سے پیچھے نہیں ہٹا، لیکن مذاکرات کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ ایران پر حملے بند کیے جائیں۔ عباس عراقچی نے واضح الفاظ میں کہا کہ “جب ایرانی عوام بمباری کی زد میں ہوں، اور یہ بمباری امریکی حمایت سے ہو رہی ہو، تو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کیسے ممکن ہیں؟”