اسلام آباد:وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے افغان طالبان کے ترجمان کے گمراہ کن اور بدنیتی پر مبنی بیانات پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی قوم، سیاسی اور عسکری قیادت مکمل ہم آہنگی کے ساتھ قومی سلامتی کے امور پر متحد ہیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس اکاونٹ پر اپنی پوسٹ میں افغان ترجمان کے گمراہ کن اور بدنیتی پر مبنی بیانات پر دوٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی پالیسیوں اور افغانستان سے متعلق جامع حکمت عملی پر قومی اتفاق رائے موجود ہے۔ پاکستانی قوم، سیاسی اور عسکری قیادت مکمل ہم آہنگ ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اور بالخصوص خیبر پختونخوا کے عوام افغان طالبان کی سرپرستی میں جاری بھارتی پراکسیوں کی دہشت گردی سے خوب واقف ہیں،اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں۔در حقیقت افغان طالبان کی غیر نمائندہ حکومت شدید اندرونی دھڑے بندی کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان خواتین، بچوں اور اقلیتوں پر مسلسل جبر، اظہار رائے،تعلیم اور نمائندگی کے حقوق سلب کررہے ہیں۔چار برس گزرنے کے باوجود افغان طالبان عالمی برادری سے کیے وعدے پورے نہ کر سکے۔اپنی اندرونی تقسیم، بد امنی اور گورننس کی ناکامی چھپانے کے لئے محض جوشِ خطابت، بیانیہ سازی اور بیرونی عناصر کے ایجنڈے پر عمل کیا جا رہا ہے ۔
وزیر دفاع نے کہا کہ افغان طالبان بیرونی عناصر کی “پراکسی” کے طور پر کردار ادا کر رہے ہیں، اس کے برعکس پاکستان کی افغان حکمت عملی قومی مفاد میں اور علاقائی امن اور استحکام کے حصول کے لیے ہے ۔پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کو یقینی اور خوارج کی گمراہ سوچ کو ناکام بنانے کے لئے سرحد پار دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات جاری رکھے گا۔جھوٹے بیانات سے حقائق نہیں بدلیں گےاورعملی اقدامات ہی اعتماد کی بنیاد ہیں۔