نیویارک :اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہاہے کہ جموں و کشمیر اور فلسطین کے عوام آج بھی غیر ملکی تسلط کے زیرِ سایہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جو اُن اصولوں سے سنگین انحراف ہے جن پر اقوامِ متحدہ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔حقِ خودارادیت اقوامِ متحدہ کے منشور کا بنیادی ستون ہے، اور اسے ان تمام اقوام کے لیے یقینی بنایا جانا چاہیے جنہیں اب تک آزادی سے محروم رکھا گیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کی سیاسی و نوآبادیاتی امور کی خصوصی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے جموں و کشمیر کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہاکہ کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت سے محروم رکھنا اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر سب سے پرانے اور حل طلب تنازعات میں سے ایک ہے۔ سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی قابلِ عمل اور لازم التعمیل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ کی زیر نگرانی ایک آزاد اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے، کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کیا جانا چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ سات دہائیوں سے بھارت اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کر رہا ہے جبر، فریب اور طاقت کے وحشیانہ استعمال کے ذریعے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ تقریباً 9 لاکھ بھارتی فوجیوں کی تعیناتی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو ایک سخت فوجی قید خانے میں بدل دیا ہے، جہاں “ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، تشدد، من مانیاں گرفتاریاں، اور اجتماعی سزائیں” عام ہیں یہ سب بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کا نتیجہ ہیں، جن کے ذریعے اس نے متنازعہ علاقے کو غیر قانونی طور پر ضم کرنے کی کوشش کی، جو سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ہمسایہ ملک کا “آبادیاتی نوآبادیاتی منصوبہ” خطے کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنے کی ایک منظم کوشش ہے، جو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہے اور یہ سب ایک “انتہا پسند ہندوتوا نظریے” کے تحت ہو رہا ہے جو مذہبی عدم برداشت اور خارجیت پر مبنی ہے۔
سفیر عاصم افتخار نے کشمیری عوام کے حوصلے کو خراجِ تحسین پیش کیا، جو “اپنی آزادی کی جدوجہد بہادری سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک جموں و کشمیر کا تنازع انصاف پر مبنی حل نہ پا لے۔انہوں نے کہا کہ امن کو ناانصافی اور حقوق کی پامالی پر استوار نہیں کیا جا سکتا۔
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے جاری انسانی المیے کی سخت مذمت کی، جہاں پوری کی پوری بستیاں ملبے میں تبدیل ہو چکی ہیں اور عورتوں و بچوں کو سفاکی سے قتل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ “حادثاتی نہیں بلکہ دانستہ جرائم ہیں” جو بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔انہوں نے واضح کیا “قبضہ ختم ہونا چاہیے، کیونکہ یہی خطے میں عدم استحکام کی جڑ ہے۔انہوں نے کہا، “موجودہ حالات کی سنگینی کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عرب اور او آئی سی رہنماؤں کے ساتھ حالیہ مشاورت کا خیر مقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ اس سے فلسطینی ریاست کے قیام اور خطے میں پائیدار امن کے لیے ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل آگے بڑھے گا۔ پاکستان نے اپنے دیرینہ مؤقف کا اعادہ کیا کہ وہ ایک آزاد، مستحکم اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کی حمایت کرتا ہے، جو 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ہو، اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
انہوں نے زور دیا کہ “امن اور قبضہ ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، جیسے انصاف اور استثنا ایک ساتھ وجود نہیں رکھتے۔” پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی مقاصد کے فروغ اور ناتمام عملِ استعماریت کو مکمل کرنے کے عزم پر قائم ہے۔
عاصم افتخارنے کہا کہ “فلسطین اور کشمیر کی جدوجہدیں اس امر کی زندہ علامت ہیں کہ جب تک آزادی چھینی جاتی رہے گی، انسانی وقار بھی مجروح ہوتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ “بین الاقوامی برادری 21ویں صدی میں کسی بھی صورت میں نوآبادیاتی تسلط کے تسلسل کی اجازت نہیں دے سکتی۔