واشنگٹن : امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر رواں ہفتے کے دوران پیش رفت مکمل ہونے کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت جاری ہے اور معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔
امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں مارکو روبیو نے انکشاف کیا کہ حماس نے جنگ کے بعد کے اقدامات پر اصولی طور پر اتفاق کر لیا ہے، جو کہ ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے کے ذریعے نہ صرف جنگ بندی کا امکان روشن ہوا ہے بلکہ یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے بھی مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔
روبویو کا کہنا تھا کہ “ہم اس وقت یرغمالیوں کی رہائی کے سب سے قریب ہیں، تاہم اس کے لیے بمباری کا سلسلہ روکنا ضروری ہو گا۔”
ذرائع کے مطابق، مجوزہ معاہدے میں ابتدائی طور پر عارضی جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور یرغمالیوں کی مرحلہ وار رہائی شامل ہے۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے، تو یہ نہ صرف غزہ کے لاکھوں متاثرین کے لیے امید کی کرن ہوگا بلکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں بھی کمی کا باعث بن سکتا ہے۔
تاہم، حتمی اعلان اور عملی اقدامات کا انحصار دونوں فریقوں کی رضامندی اور زمینی حالات پر ہے۔ عالمی برادری نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔