Home نیوز پاکستان فاطمہ تشدد قتل کیس میں اہم پیشرفت،مقدمے میں ایک اور نام شامل

فاطمہ تشدد قتل کیس میں اہم پیشرفت،مقدمے میں ایک اور نام شامل

Share
Share

خیرپور: فاطمہ تشدد قتل کیس کے مقدمے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے ، مقدمے میں ایک اور نام شامل کر دیا گیا جبکہ مزید چار افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ بھی لیے گئے ہیں ۔

پولیس کے مطابق فاطمہ کی ماں کی درخواست اور عدالت کے حکم پر ملزم اسد شاہ کے سسر اور حناشاہ کے والد کوبھی شامل تفتیش کرلیا گیا ہے ، کیس میں مزید چار افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ لیے گئے ہیں۔

تفتیشی افسر کا بتانا ہے کہ ابھی تک ٹوٹل 14 افراد کے ڈی این اے لیے گئے ہیں جبکہ گھر میں کام کرنے والے نوکر، الیکٹریشن، دودھ والے شامل ہیں، ابھی تک کسی ڈی این اے کی رپورٹ نہیں آئی ہے مزید اور بھی ٹیسٹ لیے جائینگے۔

خیرپور مقدمے میں نامزد تیں افراد اسد شاہ ، حنا شاہ اور فیاض شاہ شامل ہیں ، اس وقت اسد شاہ گرفتار، جبکہ حنا شاہ اور اس کا والد تاہم گرفت میں نہیں آسکے ۔

گزشتہ روز دنیا نیوز کی خبر پر ایکشن لیتے ہوئے خیرپور پولیس نے رانی پور میں پیر کی حویلی میں تشدد سے کمسن بچی فاطمہ کے قتل کیس میں گرفتار 4 ملزمان کو رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار کر لیا تھا ۔

قبل ازیں پولیس نے 4 ملزمان کو چھوڑ دیا تھا، رہا کئے جانے والوں میں ایس ایچ او امیر چانگ، ڈاکٹر فتاح میمن، ڈاکٹر علی حسن وسان اور کمپاؤڈر امتیاز میراسی شامل تھے۔

خیال رہے کہ چاروں افراد پر حقائق چھپانے، جرم چھپانے اور فرائض میں غفلت کے الزامات تھے، مرکزی ملزم اسد شاہ کے جسمانی ریمانڈ میں گزشتہ روز عدالت نے 3 روز کی توسیع کی تھی۔

کمسن فاطمہ کی موت رانی پور میں پیر کی حویلی میں ہوئی تھی جس کی ویڈیو منظر عام پر آئی تھی۔

Share
Related Articles

سابق اداکارہ سارہ چوہدری کا طلاق اور ذاتی زندگی پر خاموشی توڑنے کا بیان

لاہور: پوڈکاسٹ میں پہلی بار کھل کر گفتگو پاکستان ٹیلی ویژن کی...

آزاد کشمیر میں کالعدم تنظیم سے وابستہ 72 افراد گرفتار، پولیس کا دعویٰ

مظفرآباد: سکیورٹی اور امن و امان کے لیے کارروائیاں جاری آزاد جموں...

محسن نقوی کا ایران کا اہم دورہ، فیلڈ مارشل کا خصوصی پیغام سپریم لیڈر تک پہنچائیں گے

اسلام آباد: وزیر داخلہ کرغزستان سے وطن واپس پہنچ گئے وفاقی وزیر...

عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال مسترد، عوام نے امن اور استحکام کا ساتھ دیا: شاہ غلام قادر

مظفرآباد: قائد حزب اختلاف کا احتجاجی کال پر ردعمل آزاد جموں و...