لاہور:سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہاہے کہ وزیر خزانہ کی تقریر میں ہمیشہ کتابیں پھاڑ کر پھینکی جاتی ہیں سپیکر پر حملہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اپوزیشن کے اس طرح کے بے وقوفانہ عمل کو روکنا چاہتا ہوں۔
لمز یونیورسٹی کے طلبا کو اسمبلی کو ہموار چلانے میں سپیکر کے کردار کے موضوع پر لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہناتھا کہ سپیکر کا اختیار کیا ہے کیا سپیکر کو ایک کی طرفداری کرنی چاہیے چار دن سے اصرار ہے میری بات کو غلط انداز میں پیش کیا جارہا ہے، آئین کے آرٹیکل 63-2 میں سب واضح لکھا ہوا ہے، آئین کی پاسداری کا حلف توڑ دیا گیا۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ہو وزیر خزانہ کی تقریر میں ہمیشہ کتابیں پھاڑ کر پھینکی جاتی ہیں سپیکر پر حملہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اپوزیشن کے اس طرح کے بے وقوفانہ عمل کو روکنا چاہتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم صحت یا عوام کو شور میں کیسے پتہ چلے گا کہ ان پر کتنے پیسے خرچ ہوئے تو ایسے اجلاس میں بدنظمی پر آواز نہ اٹھائی جائے، میں نے اپوزیشن کے ارکان کو معطل کردیا کیونکہ آئین کی خلاف ورزی کی ۔