کراچی:کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے سفارتی مشن کی کامیابی کے بعد وطن واپسی پر کراچی ایئرپورٹ پر عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں امن کا پیغام لے کر نکلا، دشمن کے جھوٹے بیانیے کو بے نقاب کیا اور ہر عالمی فورم پر پاکستان کا مقدمہ جرات مندی سے لڑا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ 2019 میں بھارت کی شرانگیزی پر اُس وقت کی حکومت خاموش رہی، مگر موجودہ وزیراعظم شہباز شریف نے پہلگام واقعے کا بھرپور جواب دیا۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیر اب محض بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی معاملہ بن چکا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ عالمی میڈیا میں بھارت کا بیانیہ شکست کھا گیا اور پاکستان کا بیانیہ جیت گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کو پھیلانے والا نہیں بلکہ دہشتگردی کے خلاف صف اول میں ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں دی گئی دعوت پاکستان کی سفارتی کامیابی کا اعتراف ہے۔ انہوں نے بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور دریاؤں پر حملے کو پاکستان دشمنی قرار دیا اور کہا کہ بھارت کے پاس دو آپشن ہیں: یا تو معاہدہ تسلیم کرے یا پھر جنگ کے لیے تیار ہو جائے، جس میں بھی بھارت کو شکست ہو گی۔
انہوں نے پاکستان میں نفرت اور تقسیم پھیلانے والوں کو “سیاسی یتیم” قرار دیا اور کہا کہ جب بھارت نے سندھو دریا پر حملہ کیا تو یہ لوگ خاموش رہے۔ بلاول نے الزام لگایا کہ ایسی تنظیموں کے پیچھے ہمیشہ بھارت کی فنڈنگ ہوتی ہے۔