استنبول:ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے جاری بمباری کے جواب میں ایران کو اپنے دفاع کا “فطری ، جائز اور قانونی ” حق حاصل ہے ۔
اے ایف پی کے مطابق ترک صدر نےکہا کہ اسرائیل کی غنڈہ گردی اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف اپنا دفاع ایران کا فطری، جائز اور قانونی حق ہےاسرائیل کی طرف سے ایران کے خلاف حملوں کا آغاز اس وقت ہوا جب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات جاری تھے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل جس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور وہ کسی بھی بین الاقوامی قانون کو تسلیم نہیں کرتا ، اس نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کے ختم ہونے کا بھی انتظار نہیں کیا بلکہ ان مذاکرات کے نتیجے کا انتظار کئے بغیر دہشت گردی کی کارروائی کی۔ ترک صدر نے کہا کہ ہم ایران کے خلاف اسرائیل کے دہشت گردانہ حملوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، ہمارے تمام ادارے اسرائیلی حملوں کے ترکیہ پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے ہائی الرٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر طرح کے منظر نامے کے لئے تیاریاں کر رہے ہیں، کوئی بھی ہمارا امتحان لینے کی ہمت نہ کرے۔
یاد رہے کہ ایک دن قبل ترک صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو خطے کی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔ اس سے قبل پیر کو انہوں نے ترکیہ کی دفاعی صنعت کو حکم دیا ہے کہ وہ درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی پیداوار میں اضافہ کرے تاکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے پس منظر میں ترکیہ کی دفاعی صلاحیت کی سطح کو بڑھایا جا سکے۔