ایران کا اسرائیلی فوجی پروازوں پر سخت مؤقف
تہران: ایرانی خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی فوجی طیارے پڑوسی ممالک کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے ایران کی جانب پرواز کرتے ہیں تو انہیں ایران کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ تصور کیا جائے گا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کی اسرائیلی سرگرمیاں انتہائی خطرناک ہیں اور ایران انہیں اپنی سلامتی کے خلاف اقدام سمجھتے ہوئے مناسب اور مؤثر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
امریکا کو بھی پیغام
بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر امریکا اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو روکنے یا ان پر مؤثر کنٹرول قائم رکھنے میں ناکام رہتا ہے تو ایران اپنی قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی خطرے کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔
ایرانی فوجی حکام کے مطابق ایران اپنی سرحدوں اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق رکھتا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
خطے میں کشیدگی برقرار
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے باعث سیکیورٹی صورتحال حساس ہے، اس لیے ایران اپنی دفاعی تیاریوں اور نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت جواب دیا جا سکے۔
اہم نکات
- ایران نے اسرائیلی فوجی پروازوں کو قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا۔
- پڑوسی ممالک کی فضائی حدود استعمال کرنے والے اسرائیلی طیاروں پر بھی سخت ردعمل کا عندیہ دیا گیا۔
- ایران نے کہا کہ اگر امریکا اسرائیلی کارروائیاں نہ روک سکا تو تہران خود مناسب جواب دے گا۔
- ایرانی فوج نے ملکی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے عزم کا اعادہ کیا۔
نتیجہ
ایران کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اسرائیلی فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے مزید سخت مؤقف اختیار کر رہا ہے۔ ایسے بیانات خطے میں جاری کشیدگی کی حساسیت کو نمایاں کرتے ہیں، جبکہ آئندہ پیش رفت کا انحصار سفارتی رابطوں اور متعلقہ فریقوں کے اقدامات پر ہوگا۔