یومِ عاشورہ پر حریت قیادت کا پیغام
سری نگر: مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت نے یومِ عاشورہ کے موقع پر حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی عظیم قربانی کشمیریوں سمیت دنیا بھر کے مظلوم عوام کے لیے حق، صبر اور استقامت کی روشن مثال ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق غیر قانونی طور پر نظربند کل جماعتی حریت کانفرنس کی قیادت نے اپنے پیغامات میں الزام عائد کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے حقِ خودارادیت کا مطالبہ کرنے والے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور مقبوضہ کشمیر کو "کربلا” میں تبدیل کر دیا ہے۔
محرم کے جلوسوں پر پابندیوں پر تنقید
حریت رہنماؤں کا کہنا تھا کہ محرم الحرام کے روایتی جلوسوں اور مذہبی اجتماعات پر پابندیاں کشمیری مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی عکاسی کرتی ہیں اور مذہبی آزادیوں کو محدود کرنے کے مترادف ہیں۔
انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ میں کیا کہا گیا؟
تشدد کے متاثرین کی حمایت کے عالمی دن کے موقع پر جاری ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے کنٹرول کو برقرار رکھنے اور حقِ خودارادیت کی تحریک کو دبانے کے لیے جسمانی اور نفسیاتی تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگست 2019 میں آئینی دفعات 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد سے اب تک 29 ہزار 490 سے زائد کشمیریوں کو حراست میں لیا گیا، جہاں انہیں جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
راجوری میں سرچ آپریشن 35ویں روز بھی جاری
دوسری جانب ضلع راجوری کے گمبھیر مغلاں اور منجاکوٹ کے جنگلاتی علاقوں میں بھارتی فورسز کا تلاشی آپریشن مسلسل 35ویں روز بھی جاری رہا، جس کے باعث مقامی آبادی کی معمول کی زندگی شدید متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اہم نکات
- حریت قیادت نے شہدائے کربلا کی قربانی کو کشمیری عوام کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا۔
- بھارتی حکومت پر مذہبی آزادیوں اور حقِ خودارادیت کو محدود کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔
- رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ 2019 کے بعد 29,490 سے زائد کشمیریوں کو حراست میں لیا گیا۔
- راجوری کے مختلف علاقوں میں بھارتی فورسز کا سرچ آپریشن مسلسل 35ویں روز بھی جاری رہا۔
نتیجہ
حریت قیادت کے بیانات نے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور سکیورٹی صورتحال سے متعلق بحث کو تازہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب بھارتی فورسز کے جاری آپریشنز اور حریت رہنماؤں کے الزامات خطے کی صورتحال پر مختلف مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔