بیروت: حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ اسرائیل کے پاس لبنان کے زیرِ قبضہ تمام علاقوں سے غیرمشروط انخلا کے سوا کوئی راستہ نہیں، اور مزاحمت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک قبضہ ختم نہیں ہو جاتا۔
عاشورہ کے موقع پر اپنے خطاب میں نعیم قاسم نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والا معاہدہ دراصل امریکا اور اسرائیل کی شکست کا اعتراف ہے، جو خطے میں طاقت کے توازن میں اہم تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ مزاحمت کا راستہ ترک نہیں کرے گی اور لبنان کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور واشنگٹن میں جاری ہے، جہاں دونوں فریق مختلف سیکیورٹی اور سرحدی امور پر بات چیت کر رہے ہیں۔
اہم نکات
- حزب اللہ نے اسرائیل سے لبنان کے زیرِ قبضہ علاقوں سے غیرمشروط انخلا کا مطالبہ کیا۔
- نعیم قاسم نے ایران۔امریکا معاہدے کو امریکا اور اسرائیل کی شکست کا اعتراف قرار دیا۔
- حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی مخالفت کا اعادہ کیا۔
- لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور واشنگٹن میں جاری ہے۔
نتیجہ
حزب اللہ کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیم اپنے مؤقف میں کسی قسم کی نرمی کے لیے تیار نہیں اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی مخالفت پر قائم ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن میں جاری مذاکرات اس بات کا اشارہ ہیں کہ سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم دونوں فریقوں کے سخت مؤقف کسی فوری پیش رفت کو مشکل بنا سکتے ہیں۔