واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ تنازعات کے فوری حل کے لیے ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ساتھ براہِ راست رابطہ چینل قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
برطانوی ویب سائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں جے ڈی وینس نے بتایا کہ اس نئے انتظام کے تحت ایرانی اور امریکی فوجی حکام قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ملاقاتیں کریں گے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے عسکری اور سیکیورٹی معاملات پر براہِ راست بات چیت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی حکام نے تجویز دی ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کا ایک نمائندہ دوحہ بھیجا جائے، جو امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے ایک اہلکار کے ساتھ بیٹھ کر اختلافی امور پر بات کرے، تاکہ غلط فہمیوں کا خاتمہ ہو اور تنازعات کو سفارتی انداز میں حل کیا جا سکے۔
امریکی نائب صدر کے مطابق اس براہِ راست رابطہ نظام کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان غیر ضروری کشیدگی کو روکنا، فوجی رابطوں کو مؤثر بنانا اور خطے میں استحکام کو فروغ دینا ہے۔
اہم نکات
- امریکا نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے براہِ راست رابطہ چینل قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔
- ایرانی اور امریکی فوجی حکام قطر کے شہر دوحہ میں ملاقاتیں کریں گے۔
- رابطہ چینل کا مقصد کشیدگی کم کرنا اور تنازعات کو فوری سفارتی انداز میں حل کرنا ہے۔
- امریکی سینٹرل کمانڈ اور ایرانی نمائندے براہِ راست رابطے میں رہیں گے۔
نتیجہ
امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی رابطہ چینل کے قیام کا فیصلہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کی ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر یہ رابطہ مؤثر ثابت ہوتا ہے تو اس سے غلط فہمیوں میں کمی، فوجی تصادم کے خطرات میں کمی اور علاقائی استحکام کے امکانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔