اسلام آباد: نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے ملک بھر کی قومی شاہراہوں کے دونوں اطراف تجارتی سرگرمیوں کو باقاعدہ ریگولیٹ کرنے کا اہم فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کاروباری مواقع میں اضافہ، شفافیت کو یقینی بنانا اور سرکاری ریونیو میں بہتری لانا ہے۔
این ایچ اے کے مطابق شاہراہوں کے اطراف رائٹ آف وے (ROW) مینجمنٹ کو مرحلہ وار آؤٹ سورس کیا جائے گا، جس کے تحت عوام اور نجی شعبے کی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی ہدایات پر ٹول پلازوں کے بعد آر او ڈبلیوز کے لیے بھی اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اتھارٹی نے بزنس سرگرمیوں میں وسعت اور شفاف طریقہ کار کو یقینی بنانے کے لیے بڑے قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کر دیے ہیں۔ ان اقدامات کے تحت تجاوزات کے خاتمے، ریونیو میں اضافے اور خلاف ضابطہ سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
این ایچ اے کے مطابق قومی شاہراہوں پر قائم ہوٹلز اور پیٹرول پمپس سے این او سی فیس اور سالانہ کرایوں کی وصولی بھی آؤٹ سورس کی جائے گی۔ رائٹ آف وے مینجمنٹ کے ذریعے ملک بھر میں روزگار کے نئے مواقع اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
آر او ڈبلیوز کے دائرہ کار میں کراچی، حیدرآباد، کوئٹہ، لسبیلہ، بھکر، رحیم یار خان، بہاولپور، ملتان، لاہور، وزیر آباد، راولپنڈی، پشاور، کوہاٹ، ایبٹ آباد، بٹ خیلہ اور ڈیرہ غازی خان سمیت مختلف علاقے شامل ہیں۔ قومی شاہراہ این 5 سے این 80 تک کے اطراف کی آر او ڈبلیوز کو لیز پر دیا جائے گا۔
پیپرا رولز اور متعلقہ قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کے ساتھ نجی شعبے کو یہ مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ پری کوالیفائیڈ فرموں کی فنانشل بڈز 25 فروری 2026 کو کھولی جائیں گی، جبکہ کم از کم 300 ملین روپے سالانہ نیٹ مالیت رکھنے والی فرموں کے لیے یہ سرمایہ کاری کا اہم موقع قرار دیا گیا ہے۔
این ایچ اے کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا بلکہ نجی شعبے کو آگے آنے کا موقع ملے گا، ادارے کے ریونیو میں بہتری آئے گی اور قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی۔ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کے وژن کے مطابق این ایچ اے کو ایک جدید اور خود کفیل ادارہ بنانے کی سمت میں یہ اہم پیش رفت ہے۔