Home sticky post 5 افغانستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں درست انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں، عطاء اللہ تارڑ

افغانستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں درست انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں، عطاء اللہ تارڑ

Share
Share

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے غیر ملکی جریدوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے اندر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف درست انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے افغانستان میں کسی شہری علاقے کو نشانہ نہیں بنایا اور کارروائیوں کا ہدف صرف دہشت گردوں کا بنیادی ڈھانچہ اور ان کا معاون نظام ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے خیالی اعداد و شمار کسی سنجیدہ تبصرے کے بھی قابل نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان وزارت دفاع کے ترجمان کی جانب سے پاکستان کے خلاف میدان جنگ میں کامیابیوں کے دعوے درست نہیں بلکہ محض پراپیگنڈا ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے افغان طالبان رجیم اور افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے مشن کی جانب سے افغان شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق خبروں کی بھی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ کابل میں قائم اقوام متحدہ کی ایجنسی کی ان معلومات کا مکمل انحصار طالبان حکومت پر ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی جانب سے مشترکہ حملے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ افغان طالبان حکومت اور افغانستان کی سرزمین سے سرگرم متعدد دہشت گرد تنظیموں کے درمیان گٹھ جوڑ موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان رجیم کے تمام حملوں کا فوری اور مؤثر انداز میں جواب دیا گیا ہے۔ عطاء اللہ تارڑ کے مطابق پاکستان نے دہشت گردوں اور ان کے معاونین بشمول افغان طالبان کے فوجی اڈوں کو درست طریقے سے نشانہ بنایا۔

Share
Related Articles

امریکی سینیٹر لنزے گراہم 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

ریپبلکن رہنما اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی طویل سیاسی خدمات...

یورپ میں شدید گرمی کی لہر، جنگلات میں ہولناک آتشزدگی، ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل

فرانس، اسپین، پرتگال اور یونان میں 42 ہزار ایکڑ سے زائد رقبہ...

لنڈا نوسکووا ومبلڈن اوپن خواتین سنگلز کی نئی چیمپئن بن گئیں

ہم وطن کیرولینا موچووا کو شکست دے کر کیریئر کا پہلا گرینڈ...

او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین، تکنیکی سیشنز جاری، مرکزی اجلاس کل ہوگا

57 رکن ممالک کے 190 مندوبین کی شرکت، خواتین کے حقوق، بااختیار...