تہران: وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے پاک۔ایران بزنس فورم کے موقع پرخوشحالی کے نئے باب کا اعلان کیا اور کہا کہ پاکستان اور ایران باہمی تعاون کے ذریعے خطے کی معیشت کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔
فورم میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت بڑھانے، کسٹمز اور ٹیرف میں رکاوٹیں دور کرنے اور تکنیکی تعاون کو فروغ دینے پر مکمل اتفاق کیا۔ اس موقع پر جام کمال خان نے ایران کی وزیرِ سڑک و شہری ترقی فرزانہ صادق کی شاندار میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مندو پشین سمیت بارڈر مارکیٹس کو فعال بنا کر عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچایا جائے گا۔
اجلاس میں دونوں ممالک نے مشترکہ اقتصادی زونز قائم کرنے، زرعی شعبے میں تعاون بڑھانے اور تجارت و سرمایہ کاری میں نئے شعبے کھولنے پر بھی بات چیت کی۔ ایرانی وزیر فرزانہ صادق نے کہا کہ پاکستان اور ایران کی معیشتیں مل کر خطے کی ترقی کا محور بن سکتی ہیں۔ انہوں نے دواسازی، انجینیئرڈ مصنوعات اور سیرامکس کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں میں دلچسپی کا اظہار کیا اور 10 ارب ڈالر تجارتی ہدف جلد حاصل کرنے کے عزم کو دہرایا۔
ایرانی وزیر نے حالیہ سیلاب کے باعث پاکستان میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا، جبکہ جام کمال خان نے نومبر میں ہونے والے پاکستان ایگریکلچر ایکسپو میں ایرانی کمپنیوں کو خصوصی طور پر شرکت کی دعوت دی۔
جام کمال خان نے کہا کہ ایرانی سرمایہ کار پاکستان کی پانچ سالہ “اُڑان” معاشی پالیسی میں بھرپور مواقع تلاش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ایرانی کاروباری شخصیات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہماری دوستی تاریخی ہے اور اب معیشت کو بھی تاریخ ساز بنائیں گے۔