نیویارک: پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں “مشرق وسطیٰ کی صورتحال” پر بحرین اور روسی فیڈریشن کی مسودہ قراردادوں پر رائے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں جاری تنازع کے اثرات اب صرف مقامی نہیں رہے بلکہ اس کے علاقائی اور عالمی اثرات بھی نمایاں ہو چکے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ ایسا تنازع ہے جسے کبھی جنم ہی نہیں لینا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ جب بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو امن کو فروغ نہیں ملتا بلکہ وہ خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ پاکستان فوری اور مکمل جنگ بندی اور مذاکرات کی میز پر واپسی کا مطالبہ کرتا ہے کیونکہ صرف پرامن حل ہی تمام فریقین کے مفاد میں ہو سکتا ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے کو درپیش سنگین خطرات کے باوجود سلامتی کونسل اس تنازع کے خاتمے کے لیے جامع ردعمل پر متفق نہ ہو سکی، جو ایک تلخ حقیقت ہے۔ انہوں نے بحرین اور روسی فیڈریشن کے نمائندوں کا اپنی اپنی مسودہ قراردادیں پیش کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دونوں مسودہ قراردادوں کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحرین کی جانب سے پیش کی گئی مسودہ قرارداد کے حق میں پاکستان کا مثبت ووٹ بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن جیسے برادر ممالک کے ساتھ پاکستان کی مضبوط یکجہتی کا اظہار ہے۔ یہ ان بلاجواز حملوں کی واضح مذمت بھی ہے جن کا ان ممالک کو سامنا کرنا پڑا، خصوصاً وہ حملے جو شہریوں، شہری تنصیبات اور اہم شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے ان ممالک کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سیاسی آزادی کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور امید ظاہر کی کہ ان ممالک کی سرزمین پر ہونے والے حملے فوری طور پر بند ہوں گے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن جیسے ممالک کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ انہوں نے تنازع کے آغاز سے قبل بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران مکالمے کی حمایت، سفارتی رابطوں میں سہولت کاری اور کشیدگی سے گریز کی مسلسل وکالت کی تھی۔ پاکستان ان کی حکومتوں اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان روسی فیڈریشن کی جانب سے پیش کی گئی مسودہ قرارداد کو بھی مثبت نظر سے دیکھتا ہے، جو اقوام متحدہ کے منشور کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مرتب کی گئی ہے اور جس کا مقصد فریقین پر زور دینا ہے کہ وہ فوجی سرگرمیاں فوری طور پر بند کریں، مزید کشیدگی سے گریز کریں اور مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔ یہ مؤقف پاکستان کے مجموعی مؤقف کے عین مطابق ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ خطے میں رونما ہونے والے حالیہ افسوسناک واقعات، خصوصاً 28 فروری کو اسلامی جمہوریہ ایران پر بلاجواز حملوں کے آغاز نے بین الاقوامی امن و سلامتی کو سنگین خطرے میں ڈال دیا ہے اور پورے خطے کو بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ان حملوں کی مذمت کی ہے اور ایک برادر ہمسایہ ملک کی حیثیت سے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان پیش رفتوں کے گہرے سماجی، معاشی اور انسانی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور پاکستان بھی ان اثرات سے محفوظ نہیں رہا۔ متحدہ عرب امارات پر حملوں میں کم از کم دو پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے جبکہ خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں پاکستانی بھی خطرے سے دوچار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایندھن کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے جس کے باعث حکومت کو تیل، گیس اور بجلی کے استعمال میں بچت کے لیے غیر معمولی اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں، جبکہ کئی اہم فضائی روابط بھی متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس تنازع کے فوری خاتمے کا خواہاں ہے جس نے اسکولوں، رہائشی علاقوں، تیل اور بندرگاہی تنصیبات، پانی صاف کرنے کے کارخانوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث شدید انسانی المیے کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے شہری ہلاکتوں پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں اور برادریوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ میناب کے ایک ابتدائی اسکول میں معصوم بچوں کی ہلاکت کو انہوں نے خاص طور پر دل دہلا دینے والا قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے منشور کی حدود سے باہر طاقت کا کوئی بھی استعمال غیر قانونی اور قابل مذمت ہے اور تمام فریقوں پر لازم ہے کہ وہ جنگ کے دوران بین الاقوامی انسانی قانون کی سختی سے پاسداری کریں۔
پاکستانی مندوب نے مطالبہ کیا کہ تمام متنازع امور کے پرامن حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی جانب فوری واپسی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اعتماد کی بحالی، باہمی احترام اور ہم آہنگی کے ذریعے پرامن بقائے باہمی کی بنیادیں مضبوط بنانے کے لیے خلوص نیت اور حقیقی سیاسی عزم ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے کسی ایک ملک کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنے پڑوس میں یہ طے کرے کہ اس کے نزدیک کیا قابل قبول ہے اور کس چیز کو وہ خطرہ سمجھتا ہے، اور اپنے لیے مطلق سلامتی کے حصول کی کوشش میں باقی ممالک کو غیر مستحکم کرے یا انہیں دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے تنازع کی طرف دھکیل دے۔
آخر میں سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان ان ممالک کی مخلصانہ کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے جو متحارب فریقوں کے درمیان ثالثی کے لیے سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت بھی خطے اور اس سے باہر اپنے پڑوسیوں، دوستوں اور شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور اس سلسلے میں تعمیری کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ تمام فریق فوری طور پر کشیدگی میں کمی لائیں، زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں، مزید حملوں سے باز رہیں اور اس بحران کے پائیدار اور دیرپا حل کے لیے فوری طور پر سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔