ڈیووس: پاکستان چار سال کے وقفے کے بعد عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کے لیے اقدامات کر رہا ہے، جس سے معاشی استحکام کی بحالی کا تاثر مل رہا ہے۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران بلومبرگ کو بتایا کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں بانڈ اجرا کے لیے عالمی مشیروں کے تقرر کا عمل شروع کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ڈالر بانڈ، یورو بانڈ یا سکوک میں سے موزوں مالیاتی آلہ منتخب کرنے پر غور کر رہی ہے۔
وزیرِ خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان پہلی مرتبہ چینی کرنسی میں “پانڈا بانڈ” جاری کرنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ عالمی سرمایہ کاروں اور خاص طور پر چینی مارکیٹ تک براہِ راست رسائی ممکن ہو سکے۔
انہوں نے بتایا کہ افراطِ زر اب سنگل ڈیجٹ میں آ چکی ہے، جب کہ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں موڈیز، ایس اینڈ پی اور فچ نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کی ہے، زرِ مبادلہ کے ذخائر رواں مالی سال کے اختتام تک درآمدات کے تین ماہ کے برابر ہونے کی توقع ہے، حکومت برآمدات پر مبنی ترقی کی حکمتِ عملی اپنانا چاہتی ہے تاکہ ادائیگیوں کے توازن کے بحران دوبارہ پیدا نہ ہوں۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان 2022 کے بعد عالمی بانڈ مارکیٹ سے باہر تھا، تاہم آئی ایم ایف پروگرام، مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور سبسڈی میں کمی نے اعتماد بحال کیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بانڈ مارکیٹ میں واپسی عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی اور ملک کے مالی استحکام کے لیے مثبت اشارہ ہے۔
پانڈا بانڈ کے اجرا سے چین کی سرمایہ مارکیٹ تک براہِ راست رسائی ممکن ہوگی، برآمدات پر مبنی ترقی طویل مدتی فوائد لائے گی اور افراطِ زر میں کمی و زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اصلاحات کے مثبت اثرات کی عکاسی کرتے ہیں۔