اسلام آباد: وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے ترکیہ کے وزیر ٹرانسپورٹ و انفراسٹرکچر عبدالقادر اوغلو سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور لاجسٹک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر بات ہوئی۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ پاکستان ترکیہ میں مضبوط لاجسٹک پارٹنر شپ چاہتا ہے اور نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) کے ذریعے باہمی شراکت داری ممکن ہے۔ ملاقات میں یہ بھی زور دیا گیا کہ پاکستان اور ترکیہ کی بزنس کمیونٹی کو باہم رابطوں میں اضافہ کرنا چاہئے۔
ترکیہ کے وزیر عبدالقادر اوغلو نے پاکستان میں معاشی شراکت داروں سے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ این ایچ اے کے چیئرمین نے پاک-ترکیہ مواصلاتی اُمور میں پیش رفت کے لیے فوکل پرسن مقرر کرنے کی بھی اطلاع دی۔
وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے کہا کہ ترکیہ کی ہر گلی میں پاکستانی موجود ہیں اور وہ خود کو پاکستانی کمیونٹی کا سفیر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے صدر رجب طیب اردوان کی قیادت میں ترکیہ کی ترقی کو قابل تحسین قرار دیا۔
وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے سعودی عرب کے ڈپٹی سینٹر برائے مواصلات ڈاکٹر رومح ال رومح اور سری لنکا کے وزیر ٹرانسپورٹ بمل رتھ نائیک سے بھی ملاقات کی۔ دونوں ملاقاتوں میں مشترکہ کاروباری مواقع بڑھانے اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو باہم منسلک کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
سری لنکا کے وزیر بمل رتھ نائیک نے دو نئے بندرگاہوں اور تین لاجسٹک مراکز کی تعمیر کے لیے اظہارِ دلچسپی (EOI) طلب کرنے کی اطلاع دی اور پاکستان سے این ایل سی اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے آئندہ مشاورت میں شامل ہونے کی درخواست کی۔ انہوں نے بس بیڑے کی جدید کاری میں تعاون کی بھی درخواست کی۔
وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے ان سے تعاون اور قومی اداروں کی خدمات کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ ٹور آپریٹرز کے ذریعے پاکستان میں بدھ مت کے ثقافتی ورثے کے مقامات کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
ای سی او کے سیکرٹری جنرل ارشد مجید نے بھی وفاقی وزیر مواصلات سے ملاقات کی اور بین الاقوامی اداراتی ہم آہنگی کو فروغ دینے اور ٹرانسپورٹ کی روانی بہتر بنانے پر مکمل اتفاق کیا۔ ملاقات میں استنبول، تہران اور اسلام آباد کے تجارتی راہداری کو مزید مضبوط بنانے کا عزم بھی ظاہر کیا گیا۔