اسلام آباد:پاکستان کے پاس موجود تیل و گیس کے وسیع ذخائر ملکی معیشت کے لیے ایک سنہری موقع قرار دیے جا رہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مجموعی طور پر 1,234 ملین بیرل تیل کے ذخائر ہیں، جن میں سے 249.05 ملین بیرل اب بھی موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق بروقت ایکسپلوریشن نہ صرف ان ذخائر کی معاشی اہمیت کو محفوظ رکھ سکتی ہے بلکہ بیرونی انحصار کم کرکے توانائی کی خودمختاری کو یقینی بنا سکتی ہے۔
وزیرِ مملکت برائے پیٹرولیم نے بتایا کہ اگر آئندہ دہائی میں 25 سے 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے تو ان ذخائر کے کم از کم 10 فیصد حصے سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس اقدام سے سالانہ 12 ارب ڈالر کا درآمدی تیل بل کم ہوگا اور پاکستان توانائی کے شعبے میں خودکفالت کے ایک نئے دور میں داخل ہو گا۔
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی معاونت سے تیل اور گیس کی ایکسپلوریشن کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ترکیہ کے ساتھ 40 آف شور بلاکس پر معاہدہ اور امریکہ کے ساتھ آئل پارٹنرشپ کو ملکی توانائی تحفظ اور معیشت کے استحکام کے لیے گیم چینجر قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی ایکسپلوریشن کمپنی سنرجیکو کے مطابق پاکستان میں نئی دریافت شدہ تیل کی کوالٹی پریمیم گلف معیار کے برابر ہے۔ ماہرین کے نزدیک بروقت فیصلے اور سرمایہ کاری پاکستان کے لیے روشن معیشت اور مضبوط مستقبل کی ضمانت ہیں۔