Home sticky post 5 اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور نیویارک میں پاکستانی قونصلیٹ جنرل کے باہمی اشتراک سے یومِ سیاہ کشمیر کی تقریب ، مقررین کا اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور نیویارک میں پاکستانی قونصلیٹ جنرل کے باہمی اشتراک سے یومِ سیاہ کشمیر کی تقریب ، مقررین کا اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ

Share
Share

نیو یارک: کشمیر بلیک ڈے (BLACK DAY) کی تقریب سے خطاب کرنے والے مقررین نے کشمیری عوام کو ان کی بے مثال قربانیوں، ثابت قدمی اور بھارتی قابض افواج کے خلاف جرات مندانہ مزاحمت پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرے اور انہیں سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کی اجازت دے۔ مقررین نے واضح کیا کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک جموں و کشمیر کے تنازع کا منصفانہ حل تلاش نہیں کیا جاتا۔

یہ تقریب اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور نیویارک میں پاکستانی قونصلیٹ جنرل کے باہمی اشتراک سے منعقد کی گئی، جس کا موضوع تھا: “غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں آبادیاتی انجینئرنگ اور نوآبادیاتی بستیاں قائم کرنے کا منصوبہ”۔اس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، بشمول کشمیری کمیونٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

مقررین میں مسٹر سعود سلطان، محقق اور کتاب “JAMMU AND KASHMIR: THE FORGOTTEN NARRATIVE” کے مصنف؛
مسٹر اعجاز اے صابر، قانونی مشیر، مقرر اور SABIR LAW GROUP کے بانی رکن؛ سردار سوار خان، سابق رکن کشمیر کونسل اور بزرگ کشمیری رہنما؛ راجہ مختار خان، JKLF USA کے ترجمان اور محمد تاج خان، کشمیری کارکن اور کمیونٹی لیڈرشامل تھے: پاکستان کے قونصل جنرل، عامر احمد اتوزئی نے تقریب کا خیرمقدمی خطاب کیا۔

اپنے کلیدی خطاب میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کشمیری عوام کے منصفانہ اور جائز مقصد کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جموں و کشمیر کے تنازعے کو اقوام متحدہ کے مختلف فورمز پر انسانی حقوق، امن و سلامتی، قانونی حیثیت، اور بین الاقوامی قانون کے وسیع تر تناظر میں مسلسل اجاگر کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں میں اس بات پر مکمل قومی اتفاقِ رائے موجود ہے کہ کشمیری عوام کو اُن کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت جیسا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں میں درج ہے دلایا جائے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اس امر پر زور دیا کہ اگست 2019 سے بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات، جن میں زمینوں پر قبضہ، آبادیاتی تبدیلیاں، نئے ڈومیسائل قوانین اور انتخابی حلقہ بندیوں میں رد و بدل شامل ہیں، دراصل ایک نوآبادیاتی منصوبے کی عکاسی کرتے ہیں اور یہ اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کی صورتحال میں مماثلت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ قبضے کے قانونی نتائج سے متعلق بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) کی حالیہ مشاورتی رائے جموں و کشمیر کے مسئلے پر بھی لاگو کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت کی جابرانہ پالیسیوں کے کشمیریوں کی روزمرہ زندگی، ان کے حقوق اور شناخت پر اثرات کا جامع جائزہ لیا جائے۔

سفیر عاصم افتخار نے نوجوانوں کو جدید ذرائع ابلاغ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کشمیریوں کی جرات و مزاحمت کی کہانی دنیا تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مصنف سعود سلطان کی جرات، دیانت اور سچائی کے عزم کی تعریف کی جو ان کی کتاب “THE FORGOTTEN NARRATIVE” سے واضح ہے۔

پاکستان کی مستقل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر تاریخ، احساسات اور مقدر کے رشتوں سے جڑے ہوئے ہیں ۔ ان کے دل انصاف اور آزادی کے لیے ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں دلوں اور دماغوں کی جنگ ہار دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ستمبر میں کی گئی تقریر نے ایک بار پھر پاکستان کے اصولی مؤقف اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے اس کی پائیدار حمایت کو دوہرایا۔

اپنے خیرمقدمی کلمات میں نیویارک میں پاکستان کے قونصل جنرل، عامر احمد اتوزئی نے کہا کہ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام آج بھی قربانی، عزم اور استقامت کی ایک لازوال داستان رقم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ بندوقیں انہیں جھکا سکی ہیں اور نہ ہی ظلم ان کی آواز کو دبا سکا ہے۔

قونصل جنرل نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے ایک اور ظلم کیا، جس کا مقصد کشمیر کی شناخت مٹانا، آبادیاتی ساخت بدلنا اور زمینوں پر قبضہ کرنا تھا۔ انہوں نے بھارتی اقدام کو نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں بلکہ بین الاقوامی انسانی قانون کی بھی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا، “تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ انصاف کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دبایا نہیں جا سکتا۔

مسٹر سعود سلطان، جو کیمبرج سے وابستہ اسکالر اور کتاب “JAMMU & KASHMIR – THE FORGOTTEN NARRATIVE” کے مصنف ہیں، نے کشمیر کے مسئلے کو نوآبادیاتی تسلط اور تاریخی حقائق کو مٹانے کے تناظر میں بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی آواز کو منظم انداز میں علمی اور تاریخی بیانیے سے خارج کیا گیا ہے، اور جموں قتلِ عام — جس میں دو لاکھ سے زائد مسلمان شہید ہوئے — اس بات کی علامت ہے کہ بھارت کس طرح سچ کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی جدوجہد مذہبی نوعیت سے ماورا ہے — یہ خودارادیت اور وقار کے حصول کی تحریک ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مسئلے کو نوآبادیاتی جبر، آبادیاتی چالبازیوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کے تناظر میں سمجھنا چاہیے، اور حقیقی کشمیری بیانیے کے ساتھ فکری و اخلاقی وابستگی کو بحال کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

مسٹر اعجاز اے صابر، جو بین الاقوامی سطح پر کشمیر کے مسئلے کو قانونی فورمز پر اجاگر کرنے والے پہلے کشمیری وکیل ہیں، نے بھارت کے غیر قانونی قبضے پر ایک جامع قانونی تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے چوتھے جنیوا کنونشن، اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی عہد برائے شہری و سیاسی حقوق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی آبادیاتی انجینئرنگ، آبادی کی جبری منتقلی اور جابرانہ حکمرانی بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزیاں ہیں اور واضح طور پر نوآبادیاتی قبضے کے مظاہر ہیں۔

بزرگ کشمیری رہنما سردار سوار خان نے 1947 میں جموں و کشمیر پر بھارتی قبضے کی غیر اخلاقی اور غیر قانونی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا۔

JKLF USA کے ترجمان، راجہ مختار خان نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ بامعنی مذاکرات سے گریز کرتے ہوئے کشمیر کے مسئلے کے حل میں کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ دو قومی نظریہ جموں و کشمیر پر بھی لاگو ہوتا ہے، جہاں 80 فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے جو پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتی ہے۔

معروف کشمیری کارکن تاج خان نے کہا کہ وزیرِ اعظم مودی کی جابرانہ پالیسیوں کے باعث بھارت کا چہرہ دنیا بھر میں بے نقاب ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے دلوں میں پاکستان کے عوام کے لیے بے پناہ محبت اور احترام موجود ہے اور وہ دن دور نہیں جب جموں و کشمیر بھارتی قبضے سے آزاد ہوگا۔

تقریب کے آغاز میں پاکستان کے اقوام متحدہ میں نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون، اور وزیر آصف خان نے کشمیر بلیک ڈے کے موقع پر صدرِ پاکستان اور وزیرِ اعظم کے پیغامات پڑھ کر سنائے۔

اس موقع پر مسٹر سعود سلطان نے اپنی کتاب سفیر عاصم افتخار احمد اور قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی کو پیش کی۔

Share
Related Articles

ملک میں سونے کی قیمتوں میں آج بڑا اضافہ

کراچی :پاکستان بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں آج...

امریکا کا اسرائیل کو 151 ملین ڈالرز کے بم فروخت کرنے کی منظوری کا فیصلہ

واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسرائیل کو 151 ملین ڈالرز...

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے ملاقات، ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں پر گفتگو

راولپنڈی :فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد...

پڑوسی ممالک کے خلاف کوئی حملہ یا میزائل حملے نہیں کیے جائیں گے،ایرانی صدر

تہران : ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ پڑوسی...