Home نیوز پاکستان حکومت پٹرول پر 22 روپے فی لٹر ریلیف دے سکتی تھی مگر کیوں نہ دیا

حکومت پٹرول پر 22 روپے فی لٹر ریلیف دے سکتی تھی مگر کیوں نہ دیا

Share
Share

اسلام آباد:وفاقی حکومت پٹرول پر 22 روپے فی لٹر ریلیف دے سکتی تھی جو 15 جون کو نہ دیا گیا۔

روزنامہ دنیا کے مطابق ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ملکی اور بین الاقوامی ٹیکسر ملا کر حکومت پٹرول پر 22 روپے فی لٹر تک کمی کرسکتی تھی۔

لیوی ، مارجن اورکسٹم ڈیوٹی نکالنے کے بعد پٹرول کی فی لٹر قیمت 240 روپے بنتی ہے۔عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں گزشتہ دنوں اتار چڑھاؤ آیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے 75 ڈالر تک فی بیرل میں خام تیل خریدا۔پٹرول پر اس وقت 50 روپے فی لٹر لیوی ،6 روپے او ایم سی مارجن ، 7 روپے ڈیلر مارجن اور 3.6 روپے فریٹ ریٹ عائد ہے۔ پٹرولیم مصنوعات پر 18 سے 22 روپے تک کسٹم ڈیوٹی ادا کی گئی۔

تمام ٹیکسز ملا کر پٹرول کی فی لٹر قیمت 240 روپے بنتی ہے۔عالمی اور مقامی ٹیکسز کے بعد عوام کو 22 روپے ریلیف مل سکتا تھا جو منتقل نہ کیا گیا۔

Share
Related Articles

ایم ڈی کیٹ 2026 کا شیڈول جاری، داخلہ ٹیسٹ 16 اگست کو ہوگا

پی ایم ڈی سی نے MBBS اور BDS داخلوں کے لیے اہم...

پاکستان کا اقوام متحدہ سے مطالبہ، سندھ طاس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا جائے

اسلام آباد: بھارت کے آبی منصوبوں پر سلامتی کونسل سے رجوع پاکستان...

سابق اداکارہ سارہ چوہدری کا طلاق اور ذاتی زندگی پر خاموشی توڑنے کا بیان

لاہور: پوڈکاسٹ میں پہلی بار کھل کر گفتگو پاکستان ٹیلی ویژن کی...

آزاد کشمیر میں کالعدم تنظیم سے وابستہ 72 افراد گرفتار، پولیس کا دعویٰ

مظفرآباد: سکیورٹی اور امن و امان کے لیے کارروائیاں جاری آزاد جموں...