غزہ: غزہ کی مٹی ایک بار پھر آج فلسطینی خون سے تر ہو گئی۔خان یونس میں اس وقت قیامت برپا ہوئی جب سینکڑوں بھوکے فلسطینی مرد، عورتیں اور بچے اپنے خاندانوں کے لیے خوراک لینے کے لیے اقوامِ متحدہ کے امدادی مرکز کی طرف بڑھ رہے تھے۔
یہ وہ لمحہ تھا جب ہر انسان کی نظریں امید سے امداد پر تھیں، مگر اسی لمحے اسرائیلی ٹینکوں نے اندھا دھند گولہ باری شروع کر دی۔ 70 سے زائد معصوم جانیں اس گولہ باری کی نذر ہو گئیں، جب کہ سینکڑوں زخمی اسپتالوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے امدادی ادارے انروا (UNRWA) نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ”غزہ کے بھوکے لوگ اُس وقت قتل کیے جا رہے ہیں جب وہ اپنے خاندان کے لیے خوراک لینے آتے ہیں۔”انروا نے ایک بار پھر اقوامِ متحدہ کے زیرِ نگرانی محفوظ، مؤثر اور وسیع تر امدادی نظام کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔