اسلام آباد:پاکستان کے دلکش شمالی پہاڑی علاقے اور وادیاں نئے سال کی تقریبات کے موقع پر تازہ برفباری کی لپیٹ میں آنے کو تیار ہیں جو ہزاروں سیاحوں کے لیے یادگار تعطیلات کا حسین منظر پیش کریں گی۔
سردیوں کی سکول تعطیلات سے فائدہ اٹھانے والے خاندان اور سال کے اختتام سے قبل اپنی باقی ماندہ سالانہ چھٹیاں استعمال کرنے والے ملازمت پیشہ افراد ملک بھر سے برفباری کا لطف اٹھانے اور 2026 کے استقبال کے لیے شمالی علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔
محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق 30 دسمبر سے 2 جنوری 2026 تک ملک کے بالائی علاقوں میں بارش اور برفباری کا سلسلہ متوقع ہےجس سے مری، سوات، ہنزہ، ناران اور کشمیر کی وادیوں جیسے مشہور سیاحتی مقامات برف باری متوقع ہے۔
نیشنل ویدر فورکاسٹنگ سینٹر کے مطابق مغربی ہواؤں کا سلسلہ 29 دسمبر کی رات سے ملک کے مغربی حصوں میں داخل ہونے کا امکان ہے جو 30 دسمبر سے شدت اختیار کرے گا۔ یہ موسمی نظام 31 دسمبر کو ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور 2 جنوری کی صبح تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔
یہ موسم عین اس وقت متوقع ہے جب شمالی علاقوں میں سیاحت عروج پر ہوتی ہے اور ہوٹلوں و گیسٹ ہاؤسز میں مکمل بکنگ ہوتی ہےجہاں خاندان اور ملازمین سال کے آخری دن برف پوش پہاڑوں اور وادیوں میں گزارنے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔
بلوچستان اور سندھ میں 29 دسمبر کی رات سے 31 دسمبر تک کوئٹہ، زیارت، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، نوشکی، ہرنائی، ژوب، قلات، بارکھان، سبی، لورالائی، موسیٰ خیل، تربت، گوادر، جیوانی، لسبیلہ، کیچ، آواران، چاغی، پنجگور، خضدار، واشک اور خاران میں بارش تیز ہواؤں اور پہاڑی علاقوں میں برفباری متوقع ہے
سندھ میں 30 دسمبر کو کراچی، حیدرآباد، دادو، جیکب آباد، کشمور، لاڑکانہ، ٹھٹھہ، بدین اور گردونواح میں ہلکی بارش یا بوندا باندی کا امکان ہے۔سیاحوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اس قدرتی حسن سے لطف اٹھائیں مگر اپنی اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے سرکاری موسمی اطلاعات اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔