نیویارک : اقوام متحدہ کے زیرِ اہتمام دوریاستی حل سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں دنیا بھر سے سیاسی رہنماؤں اور سفارتی نمائندوں نے شرکت کی۔
کانفرنس کا مقصد فلسطین اور اسرائیل کے تنازعے کا پائیدار حل تلاش کرنا اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی کوششوں کو تقویت دینا تھا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ صورتحال نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن و استحکام کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے عالمی سیاسی عزم کی اشد ضرورت ہے۔
سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ غزہ میں انسانی جانوں کا ضیاع، بنیادی سہولیات کی تباہی اور لاکھوں افراد کی بے دخلی عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی ناگزیر ہو چکی ہے تاکہ انسانی امداد بحال کی جا سکے اور مستقبل کے لیے سیاسی حل کی راہ ہموار ہو۔
کانفرنس کے دوران عالمی رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان دو ریاستی حل ہی دیرپا امن کی واحد ضمانت ہے۔ شرکاء نے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے تحت فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کرنے پر زور دیا۔