ویانا:وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ دنیا کو متعدد بحرانوں کا سامنا ہے، جن میں جغرافیائی کشیدگی، موسمیاتی دباؤ اور تکنیکی تبدیلیاں شامل ہیں، جو کرہ ارض کو عدم استحکام کی جانب دھکیل رہی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کو پائیدار امن کی ضرورت ہے تاکہ ان بحرانوں کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
ویانا میں اقوامِ متحدہ کے دفتر میں منعقدہ اعلیٰ سطح اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا کہ جغرافیائی بے امنی، قرضوں کے جال اور موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات دنیا کے لیے بڑا خطرہ ہیں اور پائیدار ترقی کی بنیاد برابری، انصاف اور منصفانہ طرزِ عمل پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ترقی کے ثمرات ترقی پذیر ممالک تک نہیں پہنچتے، عالمی امن محض ایک خواب رہے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے حل اور جنگوں کی روک تھام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دیا ہے، تاہم پڑوسی ملک نے دریائے سندھ کے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی ہے، جس پر پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی اور روزگار کا انحصار ہے۔
محمد شہباز شریف نے علم کے تبادلے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر قرار دیا اور کہا کہ مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی میں ہونے والی ترقی صرف چند طبقات اور ملکوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ یہ پوری انسانیت کے لیے فائدہ مند ہونی چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان عالمی کاربن اخراج میں 1 فیصد سے بھی کم کا ذمہ دار ہے، لیکن اس کے باوجود سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ 2022 کے سیلاب کی تباہ کاریاں اور نقصانات آج بھی ذہنوں میں تازہ ہیں۔ انہوں نے نوجوان آبادی کو پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اور ترقی کا عظیم موقع قرار دیا۔
محمد شہباز شریف نے کہا کہ دنیا کے زخموں پر محض مرہم رکھنے کی بجائے انہیں جڑ سے ختم کرنے کی ضرورت ہے اور اقوامِ متحدہ کو کثیر قطبی دنیا کے تقاضوں کے مطابق مضبوط اور فعال بنانا ہوگا۔