ٹرمپ اور شی جن پنگ کی اہم ملاقات
بیجنگ: Donald Trump اور Xi Jinping کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ اہم ملاقات Zhongnanhai میں ہوئی۔
تجارت، ایران اور عالمی معاملات زیر بحث
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چینی صدر کے ساتھ بات چیت میں:
- تجارت
- ایران
- عالمی اور علاقائی امور
سمیت کئی اہم موضوعات زیر بحث آئے۔
انہوں نے کہا کہ متعدد ایسے مسائل حل کیے گئے جو دیگر افراد کیلئے ممکن نہیں تھے۔
ایران اور آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کا بیان
امریکی صدر نے ایران کے حوالے سے کہا کہ:
“ہم نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں اور آبنائے ہرمز کھلا رہے۔”
ٹرمپ نے چینی قیادت کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ بیجنگ کا دورہ ان کیلئے باعث اعزاز ہے۔
24 ستمبر کو دوبارہ ملاقات کا اعلان
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ 24 ستمبر کو امریکہ میں دوبارہ شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ چینی صدر بھی امریکہ سے اسی طرح متاثر ہوں گے جیسے وہ چین کے حالیہ دورے سے ہوئے ہیں۔
شی جن پنگ نے دورے کو سنگ میل قرار دے دیا
صدر شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ایک نیا اور تعمیری دوطرفہ تعلق قائم کیا ہے۔
انہوں نے امریکی صدر کے دورہ چین کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔
ٹرمپ واشنگٹن روانہ
سرکاری اعلامیے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنا دورہ مکمل کرنے کے بعد بیجنگ سے واشنگٹن روانہ ہو گئے۔
اہم نکات
- ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی
- تجارت، ایران اور عالمی امور پر گفتگو کی گئی
- ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر تشویش ظاہر کی
- 24 ستمبر کو امریکہ میں دوبارہ ملاقات کا اعلان
- شی جن پنگ نے دورے کو تاریخی سنگ میل قرار دیا
- امریکی صدر دورہ مکمل کرکے واشنگٹن روانہ ہوگئے
نتیجہ
سیاسی مبصرین کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا دورۂ چین عالمی سفارتکاری اور امریکہ چین تعلقات کے تناظر میں اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مثبت رابطے عالمی معیشت اور علاقائی استحکام پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔