غزہ: انسانیت ایک بار پھر خون میں نہا گئی۔ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز نے غزہ کے مختلف علاقوں میں شدید بمباری اور گولہ باری کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 21 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں بچے، خواتین اور وہ افراد شامل ہیں جو محض ایک وقت کی روٹی یا تھوڑی سی امداد کے انتظار میں تھے۔
سب سے ہولناک واقعہ وسطی غزہ میں نتساریم کے قریب پیش آیا، جہاں امداد حاصل کرنے کے لیے قطار میں کھڑے نہتے فلسطینیوں کو نشانہ بنایا گیا،واقعے میں 9 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔
یہ افسوسناک واقعہ اُس مقام کے قریب پیش آیا جہاں “غزہ ہیومینٹیئرین فاؤنڈیشن” – جو اسرائیل اور امریکہ کی حمایت سے قائم کی گئی – نے امدادی مرکز بنایا تھا۔ تاہم، اس مرکز کو اب اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے (UNRWA) کے سربراہ نے “موت کا جال” قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ امدادی مرکز روزانہ ہلاکتوں کی وجہ بن رہا ہے اور نہتے فلسطینیوں کے لیے ایک نیا عذاب بن چکا ہے۔ وہاں پہنچنے والے نہ صرف بھوک بلکہ بمباری سے بھی محفوظ نہیں ہیں۔
آنسوؤں سے تر یہ سرزمین سوال کر رہی ہے: کب ختم ہوگا یہ ظلم؟ کب دنیا ان مظلوموں کی آہ سنے گی جو امداد کی امید میں زندگی ہار رہے ہیں؟