پشاور:خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں شدید برفباری اور بارش کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ اور نظامِ زندگی متاثر ہوا ہے۔دمیل لوئر چترال میں برفانی تودہ گرنے سے 9 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ پاک فوج اور ریسکیو ادارے لوگوں کی مدد کے لیے ہمہ وقت متحرک ہیں۔
دمیل لوئر چترال میں برفانی تودہ گرنے سے ایک ہی خاندان کے 9 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔جبکہ ایک بچہ معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔ریسکیو 1122 کے مطانق برفانی تودے سے تمام لاشیں نکال لی گئی ہیں ، واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا ہے۔
سوات، مہمند اور وادی تیراہ میں شدید برفباری کے باعث سیاح اور مقامی افراد سڑکوں کی بندش کے سبب محصور ہو گئے تھے۔ اطلاع ملتے ہی پاک فوج نے فوری ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن شروع کرتے ہوئے برف سے ڈھکی سڑکیں صاف کر کے ٹریفک بحال کی اور متاثرین میں خوراک و گرم ملبوسات تقسیم کیے۔
وادی کاغان میں رات سے وقفے وقفے سے شدید برفباری جاری ہے۔ شوگران میں ایک فٹ سے زیادہ اور کاغان بازار میں تقریباً دس انچ برف پڑ چکی ہے جس کے باعث شاہراہِ کاغان مختلف مقامات پر بند رہی، تاہم سڑکوں کی بحالی کا کام جاری ہے۔
ایبٹ آباد میں گلیات اور ٹھنڈیانی میں برفباری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے، گلیات میں ایک فٹ جبکہ ٹھنڈیانی میں ڈیڑھ فٹ تک برف پڑ چکی ہے، جس کے باعث بعض مرکزی شاہراہیں بند ہیں۔
دوسری جانب شمالی وزیرستان میں میران شاہ کے مقام پر لمبے عرصے کے بعد پہلی بار برفباری ریکارڈ کی گئی، جبکہ صوابی کے علاقے گدون بیر گلی میں ریسکیو 1122 نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بند راستے کھول دیے۔
ادھر وادی تیراہ اور کرم کے متاثرین کے لیے انجمن ہلال احمر پنجاب کی جانب سے امدادی سامان گورنر ہاؤس پشاور پہنچا دیا گیا ہے۔علاقہ مکینوں اور سیاحوں نے پاک فوج اور ریسکیو اداروں کی بروقت امدادی کارروائیوں کو سراہا ہے۔