اسلام آباد :وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے درمیانے اور چھوٹے پیمانے کی زرعی سرگرمیوں کیلئے آسان شرائط پر قرض کی فراہمی کے حوالے سے لائحہ عمل پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 12 ایکڑ سے کم زمین والے کسانوں کو جدید زرعی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہونی چاہئیے۔
یہ ہدایات وزیرِاعظم کی زیر صدارت زرعی ترقی اور ایگری فنانسنگ پر ایک اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس میں دی گئیں، جو آج(جمعرات) اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں نائب وزیرِاعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احد خان چیمہ، رانا تنویر حسین، وزراء مملکت بلال اظہر کیانی، عبدالرحمن کانجو، مشیر وزیرِاعظم محمد علی، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی زرعی شعبے کی بہتری اور کسانوں کی پیداوار میں ویلیو ایڈیشن سے مشروط ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کسانوں کو جدید زرعی آلات، معیاری بیج، مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی، اور پانی کے بہتر استعمال جیسے شعبوں میں فوری ریلیف اور سہولیات کی فراہمی کے لیے ریاستی سطح پر مربوط اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کو برآمدی اشیاء کی تیاری کیلئے اجناس کی پراسیسنگ اور چھوٹے پیمانے پر صنعتی مشینری تک رسائی دلانے کے لیے بھی جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
اجلاس کے دوران شرکاء کو زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کی کارکردگی، کسانوں کو دیے جانے والے قرضوں، اور زرعی شعبے میں جاری اصلاحات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیرِاعظم نے رواں ماہ کے اختتام تک کسانوں کو آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کے لیے ایک جامع فنانسنگ پلان تیار کرنے اور ایگری فنانسنگ کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے زرعی اجناس کی پراسیسنگ، برآمدات اور کسانوں کی تربیت کے لیے درکار سہولیات کی فراہمی کو بھی زرعی اصلاحات میں شامل کرنے پر زور دیا۔