پشاور:صوابی کے دشوار گزار پہاڑی علاقے گدون امازئی میں کلاوڈ برسٹ، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر حادثات کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 37 تک پہنچ گئی۔
صوابی کے علاقے گدون امازئی میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، بارش کے سبب گرنے والے مکانات کے ملبے سے لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے، خدشہ ہے کہ اب بھی کئی افراد ملبے کے نیچے موجود ہے۔
گاؤں دالوڑی بالا میں مجموعی طور پر 37 افراد مکانات کے ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوئے ہیں، باقی 8 لاشیں نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
صوابی میں ٹوٹل 40 میں سے 15 مکانات مکمل طور تباہ ہوچکے ہیں 25 کو جزوی نقصان پہنچا ہے اور آج تیسرے دن بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
دالوڑی بالا میں 18 افراد کو نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد سپرد خاک کردیا گیا، مجموعی طور پر 29 لاشیں دالوڑی بالا میں دفنا دی گئی ہیں۔ چار لاشیں جن میں دو خواتین اور ان کے دو بچے شامل تھے انہیں گاؤں سرکوئی پایاں میں سپردِ خاک کیا گیا۔
اسی طرح کرنل شیر خان کلے میں سیلابی ریلے میں بہہ کر جاں بحق نوجوان کی لاش نکال لی گئی۔
دریں اثنا صوبائی وزیر برائے ریلیف نیک محمد نے صوابی کا دورہ کیا۔ ریسکیو 1122 صوابی کے دفتر میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر اویس بابر نے حالیہ بارشوں اور سیلاب کے دوران ریسکیو سرگرمیوں پر بریفنگ دی۔ صوبائی وزیر نے اہلکاروں کی خدمات کو سراہا اور ادارے کی مزید مضبوطی کے عزم کا اظہار کیا۔