غزہ کے مختلف علاقوں پر قابض اسرائیلی فورسز کے وحشیانہ حملوں میں مزید 63 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ شدید بھوک اور طبی سہولیات کی کمی کے باعث دو بچوں سمیت مزید آٹھ افراد جاں بحق ہو گئے۔
عرب میڈیا کے مطابق، اسرائیلی طیاروں نے خان یونس اور مغازی پناہ گزین کیمپ پر شدید بمباری کی، جس کے نتیجے میں کئی بے گھر فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے۔ شہید ہونے والوں میں چھ بچے بھی شامل ہیں۔ ادھر غزہ شہر پر قبضے کے لیے اسرائیلی اقدامات جاری ہیں، اور فلسطینیوں کو زبردستی ان کے گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی مظالم کے خلاف دنیا بھر میں شدید احتجاج ہورہا ہے۔ آسٹریلیا میں فلسطینیوں کے حق میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے، جہاں مظاہرین نے غزہ میں جاری قحط اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف آواز بلند کی۔ فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسنکی میں مظاہرین نے انسانی زنجیر بنا کر فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ جنوبی کوریا میں اسرائیلی سفارتخانے کے باہر احتجاجی ریلی نکالی گئی جہاں مظاہرین نے ’’فلسطین آزاد کرو‘‘ کے نعرے لگائے۔
دوسری جانب خود اسرائیل میں بھی نیتن یاہو حکومت کے خلاف عوامی غصہ سامنے آیا۔ تل ابیب میں فوجی ہیڈکوارٹر کے باہر ہزاروں افراد جمع ہوئے اور غزہ میں جاری جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔عالمی برادری پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے اور فلسطینی عوام کے تحفظ کو یقینی بنائے۔