اسلام آباد:اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے سروے 2025 میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 73 فیصد غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری سے مطمئن ہیں، جو 2023 میں ریکارڈ کیے گئے 61 فیصد کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
سروے کے مطابق یہ مثبت رجحان معیشت میں بہتری، بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ میں اضافے، اور پاکستانی روپے کے استحکام کی بدولت ممکن ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مہنگائی کی شرح 37 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد تک آنا بھی غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کا اہم سبب ہے۔او آئی سی سی آئی کے صدر یوسف حسین نے کہا کہ ایس آئی ایف سی نے سرمایہ کاری کے فروغ اور بین الحکومتی ہم آہنگی کے لیے ایک منظم طریقہ کار فراہم کیا ہے۔ان کے مطابق ایس آئی ایف سی کی کوششوں نے پاکستان کو ترقی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے دور میں داخل کر دیا ہے۔
سروے میں شامل بین الاقوامی سرمایہ کاروں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، توانائی، فارماسیوٹیکل، اور برآمدی صنعت کو سرمایہ کاری کے لیے سب سے زیادہ پرکشش شعبے قرار دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور اقتصادی استحکام کی بدولت غیر ملکی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اور امید افزا اشارہ ہے۔