Home sticky post 3 افغانستان میں مقیم دہشت گرد گروہوں کو غیر قانونی اسلحے تک رسائی علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ

افغانستان میں مقیم دہشت گرد گروہوں کو غیر قانونی اسلحے تک رسائی علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ

Share
Share

نیویارک:پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کو جدید اور غیر قانونی اسلحے تک رسائی حاصل ہونا پاکستان سمیت پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس برائے ’’غیر قانونی چھوٹے اور ہلکے ہتھیار‘‘ میں اپنے قومی بیان میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں، جن میں داعش خراسان، تحریکِ طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور مجید بریگیڈ شامل ہیں، افغانستان سے کھلے عام کارروائیاں کر رہی ہیں۔ ان گروہوں کو خطے کے ایک بڑے تخریبی کردار کی مالی و عملی مدد حاصل ہے، اور یہ اسلحہ پاکستان کے شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، جس سے ہزاروں بے گناہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

انہوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو افغانستان میں جدید اسلحے اور گولہ بارود کے ذخائر کی موجودگی پر گہری تشویش ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کو غیر قانونی اسلحے تک رسائی سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور افغان عبوری حکام کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کا پابند بنائے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اپنے ردعمل میں موجود خلا کو پُر کرتے ہوئے ان خطرات کے خلاف مربوط حکمتِ عملی اپنانی چاہیے جو عالمی اور علاقائی امن کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کے باعث جنگ کے بدلتے ہوئے انداز پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ڈرونز، مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ہتھیار، تھری ڈی پرنٹ شدہ بندوقیں اور نائٹ ویژن آلات غیر قانونی چھوٹے ہتھیاروں کی نئی شکلیں ہیں، جنہیں روکنے کے لیے عالمی نظامِ اسلحہ کنٹرول کو جدید خطوط پر استوار کرنا ضروری ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ غیر قانونی اسلحے کی تجارت پر قابو پانے اور امن کے فروغ کے لیے بین الاقوامی تعاون میں اضافہ اور اقوامِ متحدہ کے ’’پروگرام آف ایکشن‘‘ پر مؤثر عملدرآمد ناگزیر ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ چھوٹے اور ہلکے ہتھیار اگرچہ سائز میں محدود ہوتے ہیں لیکن ان کے اثرات انتہائی تباہ کن ہیں، کیونکہ یہ تنازعات کو بھڑکاتے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا باعث بنتے اور سماجی و معاشی ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

پاکستانی سفیر نے اس بات پر بھی گہری تشویش ظاہر کی کہ افریقہ غیر قانونی اسلحے کی تجارت اور اس کے غلط استعمال سے سب سے زیادہ متاثر خطوں میں شامل ہے، جہاں یہ ہتھیار دہشت گردی، منظم جرائم اور سیاسی تشدد کو فروغ دے کر براعظم میں عدم استحکام کا سبب بنے ہوئے ہیں۔

Share
Related Articles

ملک میں سونے کی قیمتوں میں آج بڑا اضافہ

کراچی :پاکستان بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں آج...

امریکا کا اسرائیل کو 151 ملین ڈالرز کے بم فروخت کرنے کی منظوری کا فیصلہ

واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسرائیل کو 151 ملین ڈالرز...

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے ملاقات، ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں پر گفتگو

راولپنڈی :فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد...

پڑوسی ممالک کے خلاف کوئی حملہ یا میزائل حملے نہیں کیے جائیں گے،ایرانی صدر

تہران : ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ پڑوسی...