ماسکو: نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 17 اور 18 نومبر کو ماسکو میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہانِ حکومت (CHG) کے اجلاس میں پاکستان کے وفد کی قیادت کی۔ انہوں نے اجلاس کے دو سیشنز میں پاکستان کا قومی مؤقف پیش کیا اور اجلاس کے موقع پر دیگر رکن ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کیں۔
ترجمان دفترخارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ایس سی او رکن ممالک کے سربراہانِ حکومت کے ساتھ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن سے مشترکہ ملاقات میں بھی شرکت کی، جہاں صدر پیوٹن نے تمام وفود کا خیرمقدم کیا۔
ایس سی او کے نیو فارمیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے ’’شنگھائی اسپرٹ‘‘ پر پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے رکن ممالک کے درمیان رابطوں، توانائی تعاون، ٹرانسپورٹ لنکیجز، لاجسٹکس اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو پاکستان کی ترجیحات قرار دیا۔ انہوں نے باہمی تجارت میں قومی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینے، ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک، ڈویلپمنٹ فنڈ اور انویسٹمنٹ فنڈ کے قیام کی بھی تجویز دی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ خطے کے تمام چیلنجز کے حل کے لیے جامع علاقائی مکالمہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں استحکام پورے خطے کے امن اور ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
ایس سی او ایکسپینڈڈ فارمیٹ اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے تجارت، سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل ترقی کے ذریعے معاشی انضمام کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انسانی شعبے میں پاکستان نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے تجربات شیئر کرنے کی پیشکش کی۔ انہوں نے ایس سی او کی جدید ضروریات کے مطابق تنظیم کی اپ گریڈیشن اور عالمی سطح پر اس کی رسائی بڑھانے کے لیے انگریزی زبان کے استعمال میں وسعت کی تجویز بھی پیش کی۔
انہوں نے مبصر اور شریک ممالک کو منصوبہ جاتی تعاون میں شامل کرنے، ایس سی او انٹربینک کنسورشیم کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کی مالی معاونت بڑھانے، اعلیٰ تعلیم کے روابط مضبوط کرنے اور ایس سی او یونیورسٹی نیٹ ورک کو عملی علم پر مبنی کنسورشیم میں تبدیل کرنے کی تجاویز پیش کیں۔
ایکسپینڈڈ فارمیٹ میں شریک رہنماؤں نے تجارت، معیشت، ثقافت اور تعاون کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا۔ اجلاس میں منگولیا کے وزیراعظم، قطر کے وزیر خارجہ اور کویت، بحرین، مصر اور ترکمانستان کے نمائندوں سمیت علاقائی تنظیموںCIS، EAEU، CSTO اور CICAکے سربراہان نے بھی شرکت کی۔
اجلاس کے دوران ایس سی او نے تجارتی و معاشی تعاون کی آئندہ حکمتِ عملی کے تعین سے متعلق مشترکہ اعلامیہ سمیت درجن کے قریب فیصلوں اور دستاویزات کی منظوری دی۔
ایس سی او کا CHG فورم تنظیم کا دوسرا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز پلیٹ فارم ہے، جس کا بنیادی فوکس رکن ممالک کے درمیان سماجی، معاشی، تجارتی اور مالی تعاون پر ہوتا ہے۔ گزشتہ برس یہ اجلاس پاکستان کی زیر صدارت اکتوبر 2024 میں اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا۔