Home sticky post 3 محفوظ مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے ملک میں اور عالمی سطح پر سبز مہارتوں میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے،ڈاکٹر مصدق ملک

محفوظ مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے ملک میں اور عالمی سطح پر سبز مہارتوں میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے،ڈاکٹر مصدق ملک

Share
Share

اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی سینیٹر ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے کہا ہے کہ عالمی معیشتیں تیزی سے صاف توانائی، کم کاربن ترقی اور پائیدار صنعتی تبدیلی کی طرف بڑھ رہی ہیں، ایسے میں ایک منصفانہ، آب و ہوا سے محفوظ اور معاشی طور پر مسابقتی مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے ملک میں اور عالمی سطح پر سبز مہارتوں میں سرمایہ کاری ناگزیر ہو چکی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے یو این کلائمٹ سمٹ (سی او پی 30) میں پاکستان پویلین پر منعقدہ اعلیٰ سطحی سائیڈ ایونٹ ’’ایک پائیدار پاکستان کے لیے سبز مہارتوں کی تعمیر‘‘ سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ دنیا اقتصادی اور صنعتی نظاموں کی غیر معمولی ساختی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے، جہاں کھربوں ڈالر قابل تجدید توانائی، موسمیاتی موافق انفراسٹرکچر، بیٹری ٹیکنالوجی، گرین ٹرانسپورٹ اور سرکلر اکانومی میں منتقل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلیاں روزگار، منڈی میں مسابقت، عالمی تجارتی قوانین اور قومی ترقی کے ماڈلز کی نوعیت بدل رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے موسمیاتی لحاظ سے سب سے زیادہ کمزور ممالک میں سے ایک ہونے کے باوجود نوجوان آبادی، کاروباری صلاحیت، بڑھتے ہوئے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم اور اس شعور کی وجہ سے بڑے مواقع رکھتا ہے کہ مستقبل کی معیشت سبز، جامع اور جدت پر مبنی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’سبز مہارتوں کی ترقی اب اختیار نہیں بلکہ لازمی ہو چکی ہے، کیونکہ یہ موسمیاتی لچک میں اضافہ، صاف توانائی کی منتقلی، وسائل کے مؤثر استعمال اور عالمی سبز سرمایہ کاری تک رسائی کا ذریعہ ہے‘‘۔

وفاقی وزیر نے زور دیا کہ کم کاربن معیشت کی طرف منتقلی منصفانہ اور برابری پر مبنی ہونی چاہیے تاکہ روایتی، فوسل فیول پر مبنی روزگار پر انحصار کرنے والے افراد متاثر ہونے کے بجائے مضبوط ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ’’پاکستان جیسے ممالک کے لیے سبز تبدیلی مزدوروں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کے نئے راستے کھولے۔ موسمیاتی عمل کو انسانی وسائل کی ترقی کے ساتھ جوڑنا ہو گا‘‘۔

ڈاکٹر ملک نے ترقیاتی شراکت داروں، مالیاتی اداروں، بین الاقوامی تنظیموں اور نجی شعبے سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر موسمیاتی تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور ٹیکنالوجی تک رسائی کو وسعت دیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’انسانوں پر سرمایہ کاری طویل المدتی موسمیاتی اہداف اور معاشی جدت کے لیے بنیادی کلید ہے‘‘۔

اس سائیڈ ایونٹ میں پالیسی ساز، محققین، ملٹی لیٹرل ڈویلپمنٹ بینکس اور تکنیکی ماہرین نے اس بات کا جائزہ لیا کہ ترقی پذیر ممالک کس طرح موسمیاتی مہارتوں کی بڑھتی ہوئی طلب اور محدود فراہمی کے درمیان پیدا ہوتے خلا کو پُر کر سکتے ہیں۔ اجلاس کی نظامت سید بولنٹ سہیل، مینجنگ پارٹنر سہیل اینڈ پارٹنرز ایل ایل پی اور پرو وائس چانسلر سہیل یونیورسٹی نے کی۔

ریاستِ پارا کے اٹارنی اور سی او پی 30 کمیٹی کے صدر تاٹیلا پمپلونا نے کہا کہ صاف توانائی کی منتقلی کی کامیابی کے لیے قانون سازی اور گورننس فریم ورک میں انصاف، مساوات اور مزدوروں کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

ورلڈ بینک کی ماحولیاتی مشیر پاؤلا رِڈولفی نے ملٹی لیٹرل بینکوں کی جانب سے جاری مالی اور ادارہ جاتی معاونت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی اہداف اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتے جب تک ممالک ابھرتی ہوئی سبز ویلیو چینز کے لیے درکار افرادی قوت کی منظم تربیت میں سرمایہ کاری نہ کریں۔

ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ کے مینجنگ ڈائریکٹر کریگ ہینسن نے خبردار کیا کہ دنیا کو 2050 تک تقریباً دوگنی موسمیاتی مہارت رکھنے والی ورک فورس کی ضرورت ہو گی جبکہ موجودہ افرادی قوت کی فراہمی اس رفتار سے نہیں بڑھ رہی جو عالمی ڈی کاربنائزیشن کی ضروریات پوری کرسکے۔

جی آئی زیڈ کی پروگرام ڈائریکٹر نادیہ ایمینوئل نے ہدفی تکنیکی تربیت، صنعت سے منسلک تعلیمی پروگراموں اور نوجوانوں کے لیے پیشہ ورانہ تربیتی منصوبوں کی ضرورت پر زور دیا جو گرین سیکٹر کی بھرتیوں کی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔

تقریب میں پاکستانی ماہرین نے بھی موسمیاتی جدید ٹیکنالوجی جیسے ایگزا اسکیل موسمیاتی خطرات کی ماڈلنگ، مصنوعی ذہانت پر مبنی زرعی کیڑوں کے کنٹرول اور جیو اسپیشل ابتدائی وارننگ سسٹمز پر اپنی تحقیق پیش کی۔ مقررین نے بتایا کہ پاکستان کا بڑھتا ہوا ٹیک اور تحقیقاتی ایکو سسٹم ایسی حل پیدا کر رہا ہے جو آفات کی تیاری، عوامی صحت کے تحفظ اور وسائل کے مؤثر استعمال میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

رواں سال پاکستان نے سبز مہارتوں کے خلا کو پُر کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں جن میں یونیسف اور مسلم ورلڈ لیگ کا 2025 میں شروع کیا گیا گرین اسکلز ٹریننگ پروگرام شامل ہے، جس کا مقصد ہزاروں محروم نوجوانوں خصوصاً لڑکیوں کو مستقبل کے روزگار کے مطابق موسمیاتی اور ڈیجیٹل مہارتیں فراہم کرنا ہے۔

وزارت نے حکومت، تعلیمی اداروں، صنعت اور ترقیاتی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ تجویز کردہ تعاون کے شعبوں میں گرین ٹیک حب کی توسیع، گرین اسکلز کو قومی تعلیمی نظام میں شامل کرنا اور ایک ’’گرین یونیورسٹی‘‘ ماڈل کا قیام شامل ہے جو قومی سطح پر مرکزِ فضیلت کا کردار ادا کرے گا۔

مقررین نے کہا کہ انسانی وسائل میں سرمایہ کاری نہ صرف موسمیاتی موافقت کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ معیاری روزگار کے مواقع پیدا کرنے، جدت کو فروغ دینے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور نئی نسل کو ایک منصفانہ، لچکدار اور پائیدار پاکستان کی تعمیر کے قابل بنانے کا راستہ بھی ہے۔

Share
Related Articles

ملک میں سونے کی قیمتوں میں آج بڑا اضافہ

کراچی :پاکستان بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں آج...

امریکا کا اسرائیل کو 151 ملین ڈالرز کے بم فروخت کرنے کی منظوری کا فیصلہ

واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسرائیل کو 151 ملین ڈالرز...

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے ملاقات، ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں پر گفتگو

راولپنڈی :فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد...

پڑوسی ممالک کے خلاف کوئی حملہ یا میزائل حملے نہیں کیے جائیں گے،ایرانی صدر

تہران : ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ پڑوسی...